مکوں، گھونسوں اور لاتوں کا استعمال ،علیمہ خان کی بریفنگ کا بائیکاٹ ، دو کارکن گرفتار
مخالفین نے ہلڑ بازی کی کوشش کی ، پی ٹی آئی ، صحافی کواختلاف رائے پر نشانہ بنایا : عطا تارڑ
راولپنڈی (خصوصی رپورٹ )توشہ خانہ ٹو کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت کے بعد جیل کے باہر موجود صحافیوں نے علیمہ خان کی پریس بریفنگ کا اسوقت بائیکاٹ کردیا جب پی ٹی آئی کارکنوں کی سوشل میڈیاپر صحافیوں کے خلاف مہم پر علیمہ خان کی توجہ دلائی گئی تاہم علیمہ خان کے ساتھ موجود ایک وکیل کی ہتک آمیز گفتگو کے بعد کارکنوں نے میڈیا نمائندگان پر ہلہ بول دیاتشدد کے نتیجے میں دو صحافی زخمی ہوگئے پولیس نے دو کارکنوں کو گرفتارکرلیا پولیس نے علیمہ خان سمیت 40 نامعلوم کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ۔علیمہ خان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد ہونے والی میڈیا ٹاک اسوقت دھرم برھم ہوگئی جب پی ٹی آئی کارکنوں نے صحافیوں کی جانب سے انکی توجہ سوشل میڈیا پر جاری مہم کی جانب دلائی۔پی ٹی آئی کارکنوں نے اشتعال بھرے انداز میں میڈیا نمائندگان پر حملہ کرتے ہوئے انھیں مکوں گھونسوں اور لاتوں پر رکھ لیا۔سینئر صحافی اعجاز اور ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندے طیب بلوچ تشدد کے نتیجے میں زخمی ہوگئے صحافیوں نے علیمہ خان کی میڈیا بریفنگ کا بائیکاٹ کردیا اور پولیس چوکی اڈیالہ میں گرفتار پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف قانونی کاروائی کے لئے درخواست جمع کروادی۔ تھانہ صدر بیرونی نے صحافی طیب بلوچ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا۔مقدمہ صحافی طیب بلوچ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔مقدمہ میں علیمہ خان۔ پی ٹی آئی وکیل نعیم پنجوتھا اور 40 کے قریب نامعلوم کارکنوں کو نامزد کیا گیا۔ تحریک انصاف کی طرف سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مخالفین کی طرف سے پھر علیمہ خان کی گفتگو کے دوران ہلڑبازی کی ناکام کوشش کی گئی۔ علیمہ خان نے ڈٹ کر عمران خان کا پیغام قوم تک پہنچا دیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کی ترکیب یہ تھی کہ پہلے ایک جیالے کو صحافی بنا کر بھیجو، وہاں جا کر کوئی فضول بات کرو پھر اپنے ہی ساتھ آئے 4 صحافی نما افراد آپ کو خود ہی دھکیل کر پیچھے لے جائیں۔ اس ساری سرگرمی کو تشدد اور مارپیٹ کا نام دے کر تحریک انصاف سے جوڑ دو، آپ سمجھتے ہیں کہ قوم آپ کے ایسے ہتھکنڈوں سے باخبر نہیں؟۔وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے صحافی پر تشدد کی مذمت کی ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحافیوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ اگر ان کے حق میں بات نہیں کرو گے تو پہلے سوشل میڈیا پر گالیاں دی جائیں گی اور پھر تشدد کیا جائے گا۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا آ تارڑ نے کہا ہے کہ صحافی طیب بلوچ کو تشدد کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحافی طیب بلوچ کو صرف اور صرف اختلاف رائے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو ناقابل قبول ہے۔