9 ستمبر 1965 پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے، جب پاک فوج نے جنگِ ستمبر کے دوران دشمن بھارت کو تین مختلف محاذوں پر تاریخی شکست دی۔
چاہے میدانِ جنگ ہو یا فضائی محاذ، پاکستانی جوانوں نے بے مثال جرات، قربانی اور حکمت عملی سے نہ صرف دشمن کی پیش قدمی روکی بلکہ اُسے شدید نقصان پہنچا کر پسپائی پر مجبور کر دیا۔ یہ دن اُن بہادر سپاہیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔
جسڑ پُل پر دلیرانہ دفاع — لیفٹیننٹ کلیم محمود شہید
نارووال کے قریب جسڑ پُل پر بھارتی فوج نے شدید حملہ کیا، جس کا پاک فوج نے شجاعت سے مقابلہ کیا۔ اس معرکے میں لیفٹیننٹ کلیم محمود نے بے مثال بہادری دکھاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی قربانی نے اس مقام پر دشمن کی پیش رفت روک دی اور اس محاذ پر دفاع کو مضبوط بنایا۔
فضائی محاذ پر بھارتی فضائیہ کو بھاری نقصان — 81 طیارے تباہ
اسی دن، پاکستان ایئر فورس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ بھارت کے دو اہم فضائی اڈوں — پٹھان کوٹ اور جودھ پور — پر کامیاب حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 81 بھارتی جنگی طیارے تباہ ہوئے:
28 طیارے فضا میں مار گرائے گئے
2 طیارے اینٹی ایئرکرافٹ فائر سے تباہ ہوئے
36 زمین پر کھڑے جہاز تباہ کیے گئے
15 طیارے کلائی کونڈا ایئر بیس پر تباہ ہوئے
یہ کارروائی بھارتی فضائیہ کے لیے ایک زبردست دھچکا تھی، جس سے اس کا بڑا حصہ غیر مؤثر ہو گیا۔
بری محاذ پر دشمن کی پیش قدمی ناکام — دو افسران شہید
بری محاذ پر پاک فوج نے سیالکوٹ اور قصور کے علاقوں میں دشمن کی پیش قدمی کو روکا اور فیصلہ کن برتری حاصل کی۔میجر محمد اشرف خان نے سیالکوٹ کینٹ کی طرف بڑھتے دشمن کے 2 ٹینک تباہ کیے، لیکن وہ دشمن کی فائرنگ سے شہید ہو گئے۔لیفٹیننٹ کرنل صاحبزاد گل (ستارہ جرات) نے قصور سیکٹر میں دشمن کو دھکیل کر کھیم کرن اور وال تھوا ریلوے اسٹیشن پر قبضہ کیا، تاہم دشمن کے جوابی حملے میں شہید ہو گئے۔ بعد از شہادت انہیں ستارہ جرات سے نوازا گیا۔
سونا مرگ میں بھارتی انجینئرنگ ٹیم پر حملہ
مغربی محاذ کے سونا مرگ مقام پر پاک فوج نے بھارتی انجینئرنگ ٹیم کو نشانہ بنایا، جس سے دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچا۔
پاک فوج کی جرات مندی کا ناقابلِ فراموش باب
9 ستمبر 1965 کو پاک فوج نے جس بہادری، جذبے اور نظم و ضبط سے دشمن کے تمام محاذوں پر پسپائی پر مجبور کیا، وہ نہ صرف عسکری تاریخ کا اہم سنگِ میل ہے بلکہ پوری قوم کے لیے فخر اور عظمت کی علامت بھی ہے۔ ان شہداء کی قربانیاں اس وطن کی مٹی میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔