وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ کے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور دشمن کو نہ صرف میدان جنگ بلکہ سفارتی محاذ پر بھی شکست دی۔
وزیراعظم کا خطاب:
وزیراعظم نے کہا کہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج ایک باوقار ادارہ ہے جس نے ہمیشہ ہر امتحان میں شاندار خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے افسران اور ادارے کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے دفاع میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
بھارت کو منہ توڑ جواب:
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں 6 اور 10 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے میزائل حملے کیے گئے جن کا ہماری مسلح افواج نے فضائی اور زمینی بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پلوامہ جیسے واقعات کی آڑ میں جارحانہ عزائم ظاہر کیے، مگر پاکستان نے نہ صرف دفاع کیا بلکہ بازی پلٹ دی۔
آرمی چیف اور ایئرچیف کی کارکردگی:
شہباز شریف نے کہا کہ 10 مئی کو جب آرمی چیف کی کال آئی تو وہ پُرسکون اور پُراعتماد تھے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ فیلڈ مارشل رینک کے حق دار ہیں۔ ایئرچیف نے بھی بھارت کے سات ہائی ویلیو ٹارگٹس کو کامیابی سے نشانہ بنا کر اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت دیا۔
سفارتی سطح پر بھی فتح:
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کو نہ صرف میدان جنگ بلکہ سفارتی محاذ پر بھی شکست کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان بھارت کو سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
نئی جنگی حکمت عملی کی ضرورت:
انہوں نے کہا کہ آج جنگ کا انداز بدل چکا ہے، اب عام محاذ کے بجائے مختلف شعبہ جات میں صلاحیتوں کا امتحان ہے۔ انہوں نے افسران کو متحرک، ہمہ وقت تیار اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے کی تلقین کی۔وزیراعظم نے آخر میں پاکستان کی مسلح افواج، افسران اور اداروں کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی قربانیوں کو سلام پیش کیا۔