2 ستمبر 1965: جنگ کے دوسرے روز بھارتی وزیراعظم کی جانب سے پاکستان کو دھمکی

2 ستمبر 1965: جنگ کے دوسرے روز بھارتی وزیراعظم کی جانب سے پاکستان کو دھمکی

ویب ڈیسک: 2 ستمبر 1965 کو پاک بھارت جنگ کے دوسرے روز بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری نے پاکستان کو جنگ کی دھمکی دی، تاہم اعتراف کیا کہ گزشتہ روز پاکستانی افواج نے بھارت کے 4 جنگی طیارے مار گرائے۔

 اسی دن بھارتی آرمی چیف جنرل جے این چوہدری نے مقبوضہ کشمیر میں اعلیٰ فوجی حکام سے ملاقات بھی کی۔دوسری جانب صدر ایوب خان نے قوم سے خطاب میں کہا کہ بھارت نے ابتدا ہی سے پاکستان اور کشمیر کے خلاف اپنی پالیسی نفرت و دشمنی پر رکھی ہے جس کے نتیجے میں موجودہ سنگین صورتحال جنم لے چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کشمیریوں سے کیا گیا وعدہ پورا کرے گا اور بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔صدر آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نے بھی بھارت کو خبردار کیا کہ بھارتی افواج اپنی ’’قبر‘‘ میں اُتر چکی ہیں۔

بین الاقوامی مبصرین نے بھارت کی جانب سے فضائی قوت کے استعمال پر افسوس کا اظہار کیا جبکہ پاک فوج نے تمام فارمیشنز کو وارننگ آرڈر جاری کیے تاکہ بھارتی افواج کی بڑھتی ہوئی جنگی تیاریوں کے پیشِ نظر اگلی صبح تک اپنے اپنے کنسنٹریشن ایریاز سنبھال سکیں۔کشمیر کے محاذ پر پاکستانی افواج نے سونامرگ کے نزدیک ایک بھارتی پلاٹون کا صفایا کیا اور بھارتی تنصیبات پر حملے جاری رکھے۔ ادھر چھمب کے محاذ پر پاک فوج نے مشرقی سمت پیش قدمی کرتے ہوئے 15 بھارتی ٹینک قبضے میں لے لیے اور 150 بھارتی فوجیوں کو جنگی قیدی بنا لیا۔