طلبہ کی سست پیشرفت پر سپروائزرز بھی جوابدہ، سہ ماہی رپورٹس،مانیٹرنگ نظام نافذ
لاہور (خصوصی رپورٹ)یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے پوسٹ گریجویٹ طلبہ کی تعلیمی و تحقیقی پیشرفت کی نگرانی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پی ایچ ڈی اور ایم فل طلبہ کی سست پیشرفت پر سپروائزرز کو بھی برابر کا ذمہ دار قرار دیدیا۔ یہ فیصلہ ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ کے 231ویں اجلاس میں کیا گیا جسکی صدارت وائس چانسلر پروفیسر سہیل صابر نے کی۔ پوسٹ گریجوایٹ ایجوکیش، تھیسسز، تحقیق، ٹائم بارڈ طلبہ اور امتحانی امور کا جائزہ لیا گیا۔ وائس چانسلر نے ہدایت کی کہ ہر پوسٹ گریجوایٹ طالبعلم کی تعلیمی و تحقیقی پیشرفت کی سہ ماہی رپورٹ تیار کی جائے تاکہ تاخیر کی بروقت نشاندہی اور ڈگری کی مقررہ مدت میں تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سست پیشرفت کا ذمہ دار صرف طالبعلم کو قرار نہیں دیا جا سکتا سپروائزر بھی برابر کا ذمہ دار اور جوابدہ ہوگا۔ سپروائزرز طلبہ کی م ئوثر رہنمائی، تحقیق کی نگرانی اور مقررہ اہداف کی بروقت تکمیل یقینی بنائیں۔ اجلاس میں توسیع حاصل کرنیوالے طلبہ کی ماہانہ مانیٹرنگ کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی ایسے طلبہ کی حاضری، تعلیمی کارکردگی اور تحقیقی پیشرفت کا باقاعدگی سے جائزہ لے گی۔ بورڈ نے پوسٹ گریجوایٹ پروگرامز کیلئے نئے امتحانی ماہرین کے پینلز پربھی غور کیا،جدید تحقیقی موضوعات سے متعلق ابتدائی تحقیقی خاکہ جات بھی زیر غور آئے۔ وائس چانسلر نے ہدایت کی کہ پوسٹ گریجوایٹ طلبہ سے متعلق فیصلوں پر شفاف اور مسلسل مانیٹرنگ کے ذریعے عملدر آمد یقینی بنایا جائے تاکہ تحقیق کا معیار بہتر ہو، غیر ضروری تاخیر ختم ہو اور طلبہ اپنی ڈگریاں مقررہ مدت میں مکمل کر سکیں۔