سائنسدانوں نے تقریباً 16 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے زمین پر موجود ایک منفرد ممالیہ جانور کے فوسلز دریافت کیے ہیں، جو پانی اور خشکی دونوں ماحول میں رہنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
یہ جانور موجودہ اُودبلاؤ اور بیور سے مشابہت رکھتا تھا اور ڈائنوسار کے دور میں جھیلوں اور دریاؤں میں تیرتا تھا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس قدیم جانور کا نام میگاکاؤڈا سنگی (Megacauda sungei) رکھا گیا ہے۔ اس کی باقیات چین کے علاقے اندرونی منگولیا سے دریافت ہوئی ہیں۔ فوسلز کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں جلد اور بالوں کے نشانات بھی محفوظ ہیں، جو قدیم ممالیہ جانوروں کی ساخت اور طرزِ زندگی کو سمجھنے کے لیے اہم شواہد فراہم کرتے ہیں۔تحقیق کے مطابق میگاکاؤڈا سنگی کی لمبائی تقریباً 20 انچ جبکہ وزن لگ بھگ 2 کلوگرام تھا۔ اس کی چوڑی اور چھلکوں والی دم موجودہ بیور سے مشابہت رکھتی تھی، جبکہ اس کے دانت مچھلیوں اور دوسرے چھوٹے آبی جانداروں جیسے پھسلنے والے شکار کو پکڑنے کے لیے موزوں تھے۔سائنسدانوں کو اس جانور کی باقیات کے پیٹ کے حصے میں ہڈیاں بھی ملی ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دوسرے چھوٹے جانوروں کو اپنی خوراک بناتا تھا۔ اس کی جسمانی ساخت اور فوسلز میں محفوظ شواہد اس کے آبی ماحول سے مطابقت رکھنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت اس عام تصور کو مزید وسعت دیتی ہے کہ ڈائنوسار کے دور میں ممالیہ جانور صرف چھوٹے زمینی جانداروں تک محدود تھے۔ اس کے برعکس، بعض ممالیہ مختلف ماحول میں زندگی گزارنے کے لیے مخصوص جسمانی خصوصیات بھی رکھتے تھے۔تحقیق کے نتائج قدیم ممالیہ جانوروں کے ارتقا، ان کی خوراک اور رہنے کے ماحول کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ جلد اور بالوں کے نشانات کا محفوظ ملنا بھی اس دریافت کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے، کیونکہ ایسے شواہد سائنسدانوں کو کروڑوں سال پہلے کی زندگی کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔