ویب ڈیسک: علی امین گنڈاپور کے بانی پی ٹی آئی کے حکم پر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے عہدے سے استعفے کے بعد صوبے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
پی ٹی آئی نے نئے وزیراعلیٰ کے لیے ممکنہ امیدوار سہیل آفریدی کو فائنل کیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی آج اہم اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں وزیراعلیٰ کے مقابل امیدوار کا نام حتمی کرنے کی توقع ہے۔اسی دوران، عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان راولپنڈی کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں اندراج مقدمہ کی درخواست پر پیش ہوئیں۔ میڈیا نے علیمہ خان سے سوال کیا کہ علی امین گنڈاپور کو تبدیل کیوں کیا جا رہا ہے، جس پر انہوں نے کہا کہ ابھی ہم کورٹ جا رہے ہیں، جانے دیں۔ڈسٹرکٹ کورٹ میں علیمہ خان پر انڈے پھینکنے کے واقعے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں ایڈیشنل سیشن جج فرحت جبیں رانا نے سماعت کی۔ علیمہ خان اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ پیش ہوئیں، جنہوں نے دلائل میں کہا کہ یہ واقعہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، انڈے پھینکنے کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا تھا اور یہ ایک منصوبہ بند حملہ تھا۔
عدالت نے اس کے بعد پراسیکیوشن سے دلائل طلب کر لیے ہیں اور مقدمے کی آئندہ سماعت کے لیے کارروائی جاری ہے۔یہ سیاسی اور عدالتی حرکات و سکنات خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں تبدیلی کے ماحول کو مزید سنجیدہ اور ہائی پروفائل بنا رہی ہیں، جہاں اپوزیشن اور پی ٹی آئی دونوں ہی اپنی حکمت عملیوں پر کام کر رہی ہیں۔