پاکستان تحریکِ انصاف کی لیگل ٹیم نے پارٹی قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ اگر گورنر استعفیٰ منظور نہ بھی کریں تو قانونی طور پر دیگر راستے موجود ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق، وزیراعلیٰ کا لکھ کر یا زبانی طور پر استعفیٰ دینا کافی ہے اور اسے منظور تصور کیا جا سکتا ہے۔اس معاملے کو حل کرنے کے لیے کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، جس میں ایڈووکیٹ جنرل، اسد قیصر، سہیل آفریدی، جنید اکبر، مصدق عباسی اور دیگر شامل ہیں۔ کمیٹی نے آئینی پہلوؤں کا جائزہ لے کر پارٹی قیادت کو آگاہ کر دیا ہے۔دوسری جانب ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 130 کلاز 8 میں استعفے کا طریقہ کار واضح ہے اور اس آرٹیکل میں صرف استعفیٰ گورنر کو بھیجنے کی ہدایت کی گئی ہے، گورنر کی منظوری کا ذکر نہیں۔
شاہ فیصل نے مزید وضاحت کی کہ استعفے دو قسم کے ہوتے ہیں:
بائی لیٹرل استعفیٰ: جس میں منظوری لازمی ہوتی ہے۔
یونی لیٹرل استعفیٰ: جس میں منظوری ضروری نہیں۔
ان کے مطابق، آئینی عہدے یونی لیٹرل نوعیت کے ہوتے ہیں، اس لیے ایسے استعفے کی منظوری لازمی نہیں، اور عدالتوں میں اس حوالے سے مختلف فیصلے موجود ہیں۔یہ قانونی رائے پی ٹی آئی کو متبادل راستہ فراہم کرتی ہے تاکہ وزیراعلیٰ کے استعفے کا معاملہ بغیر گورنر کی منظوری کے بھی حل کیا جا سکے۔