سیلاب ، پیدوارمیں کمی ،مہنگائی بڑھنے کا خدشہ

 چاول، گنا، کپاس، گندم اور مکئی کی فصل متاثر ،مہنگائی 7 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔ غربت میں کمی 
 اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب کے بعد معاشی بحالی میں سست روی کا خدشہ ہے اور سیلابی نقصانات کے باعث رواں مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معاشی شرحِ نمو 2عشاریہ 6 فیصد تک محدود رہنے کا تخمینہ ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کی معاشی صورت حال پر عالمی بینک نے رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی معاشی شرحِ نمو 2.6 فیصد تک محدود رہنے کا تخمینہ ہے جبکہ حکومت نے رواں مالی سال معاشی ترقی کا ہدف 4عشاریہ 2فیصد مقرر کر رکھا ہے۔ اگلے مالی سال پاکستان 3عشاریہ 6فیصد کی شرح سے ترقی کرے گا۔عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں حالیہ سیلاب کے بعد معاشی بحالی میں سست روی کا خدشہ ہے، سیلابی نقصانات سے مالی سال 26-2025 میں حقیقی جی ڈی پی گروتھ 2.6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی 7 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق پنجاب میں زرعی پیداوار میں 10 فیصد کمی، چاول، گنا، کپاس، گندم اور مکئی کی فصل متاثر ہوئی۔ خوراک کی ترسیل متاثر ہونے سے مالیاتی خسارہ ساڑھے پانچ فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے، معاشی ترقی کا انحصار زرعی شعبے کی بحالی پر ہوگا۔عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح میں اگلے سال ایک فیصد کمی کا امکان ہے، رواں مالی سال غربت کی شرح 44 فیصد اور اگلے مالی سال میں 43 فیصد رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محصولات میں اضافے، اخراجات میں کمی اور زرعی بحالی سے معاشی بہتری ممکن ہے، 5 سالہ اصلاحاتی منصوبے کے تحت ٹیرف میں کمی سے بر آمدات میں اضافہ متوقع ہے۔ سیلاب سے بر آمدات میں کمی مگر ترسیلات زر اور تیل کی کم قیمتوں سے توازن ممکن ہوگا۔