حکومتی اتحادی جماعتوں میں محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی ،صدر زرداری نے محسن نقوی کو کراچی بلالیا

محسن نقوی ن لیگ، پی پی میں صلح کا ٹاسک 
کوئی اس بھول میں نہ رہے کہ پیپلزپارٹی کو دیوار سیلگا دے گا:پرویز اشرف،تذلیل سے حکومتی اتحاد چلتے ہیں نہ معافی سے عزت نفس کم ہوتی:شیری رحمٰن، دل آزاری پر دکھ ہے :اعظم نذیر تارڑ،نورا کشتی نہ کریں آئیں ملکر تحریک عدم اعتماد لائیں:اسد قیصر، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی کورم کی نشاندہی، اجلاس ملتوی 
اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک)پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان ڈیڈلاک ختم نہ ہوا،محاذ آرائی میں شدت آ گئی، سپیکر چیمبر میں مذاکرات بے نتیجہ، پیپلز پارٹی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ایک بار پھر واک آئوٹ کر گئی،صدر آصف علی زرداری نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو ٹیلی فون کر کے سندھ اور پنجاب کے درمیان چلنے والی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا اور معاملے کے حل کیلئے محسن نقوی کو کراچی طلب کرلیا،جس پر محسن نقوی کراچی پہنچ گئے،انہوں نے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کے ہمراہ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار سے ملاقات کی اوروالدہ کے انتقال پرتعزیت کی،قبل ازیں سپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ہونے والی ملاقات میں حکومتی وفد پیپلز پارٹی کو منانے میں ناکام رہا، پیپلز پارٹی نے ایوان میں علامتی شرکت کا فیصلہ برقرار رکھا اور وزیر اعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی ملاقات تک فیصلہ تبدیل نہ کرنے سے متعلق حکومتی وفد کو آگاہ کیا،ن لیگ نے بیان بازی کا سلسلہ روکنے کی ایک بار پھر یقین دہانی کرائی، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، اعجازجاکھرانی اور ڈپٹی سپیکر غلام مصطفی پی پی وفد میں شامل تھے جبکہ ن لیگ کی جانب سیایاز صادق، رانا ثنااللہ اور ڈاکٹر طارق فضل ملاقات میں شریک ہوئے۔بعد ازاں پیپلز پارٹی نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں سے واک آئوٹ کرتے ہوئے ایک بار پھر ن لیگی قیادت سے مطالبہ کیاکہ وہ پی پی قیادت کے خلاف بیان بازی پر معافی مانگے۔سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال خان کی زیر صدارت ہوا۔ شیری رحمن نے کہا کہ ملک میں سیلاب اور آفت آئی ہوئی ہے، سندھ اور پنجاب کے لاکھوں لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، پی پی پی کی قیادت کی طرف سے کہنا چاہوں گی کہ ہم لوگوں کو تقویت دینے کے بجائے کمزور کررہے ہیں، پنجاب حکومت اور سندھ حکومت میں الفاظ کی جنگ کا اثر وفاقی حکومت پر پڑ رہا ہے۔ پنجاب کارڈ کھیلنے سے ریڈ لائن کراس ہورہی ہے، بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو کے بارے میں باتیں کرنا نامناسب ہے، پنجاب میں بھی پیپلز پارٹی کی نمائندگی ہے، بلاول بھٹو نے بس اتنا کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال کرکے سیلاب متاثرین کی مدد کی جائے مگر لوگوں کی تذلیل کرکے حکومتی اتحاد نہیں چلا کرتے، معافی مانگ کر کسی کی عزت نفس میں کمی نہیں ہوتی۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کلائمیٹ جسٹس کی بات کی ہے، جنوبی پنجاب سیلاب سے تباہ ہوا ہے، فصلیں تباہ ہوچکی ہیں مگر جو الفاظ ادا کیے گئے مجھے انہیں دہراتے ہوئے شرم آرہی ہے، اگر ہماری قیادت سے معافی نہیں مانگی گئی تو ہمیں گرانٹڈ نہیں لیا جائے۔ جس کے بعد پیپلز پارٹی کے سینیٹر ایجنڈا کی کاپیاں پھاڑتے ہوئے اجلاس سے واک آئوٹ کرگئے۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر کسی کے الفاظ سے دل آزاری ہوئی ہے تو بطور سیاسی کارکن مجھے دکھ ہے، صدر زرداری بزرگ سیاستدان ہیں وہ صلح جوئی کا کردار ادا کریں گے، اپوزیشن خوش نہ ہو۔ کوشش کریں گے کہ دوستوں کو منا کر واپس لے آئیں۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے ہدایت دی کہ خلیل طاہر سندھو، افنان اللہ، انوشہ رحمن جائیں اپوزیشن کو منا کر لے آئیں۔تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ اس وقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں مقابلہ چل رہا ہے، امداد متاثرین تک تو نہیں پہنچی، شاید ان کی اپنی جیبوں تک پہنچی ہے، مقابلہ چل رہا ہے کس نے کتنی پریس کانفرنسز کیں، کتنی تصویریں بنوائیں، پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے اس ملک میں سب سے زیادہ حکمرانی کی، یہ لوگ ڈھٹائی سے مقابلہ کررہے ہیں کہ کس نے قوم کو کم دھوکا دیا اور قوم تکلیف میں تڑپ رہی ہے۔سیلاب متاثرین کے بچے آج بھی کھلے آسمان تلے بھوکے سو رہے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں جماعتیں بضد ہیں کہ انہیں ٹرافی دی جائے، میں پی ٹی آئی کی طرف سے انہیں بے حسی، نااہلی، لالچ کی ٹرافی دیتا ہوں،حالات دیکھیں اور یہ لوگ ایوان سے واک آئوٹ کررہے ہیں۔پی ڈی ایم ایز کو فنڈز نہیں دئیے گئے۔ان جملوں کے ساتھ ہی ایوان میں پی ٹی آئی اور ن لیگی سینیٹرز کے مابین نوک جھوک شروع ہوگئی۔ پی ٹی آئی سینیٹرز چیئرمین ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے۔ پی ٹی آئی سینیٹرز نے کہا کہ جب تک ہمارے پارلیمانی لیڈر کو بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا ہم بھی کسی کو نہیں بولنے نہیں دیں گے، آپ کے پارلیمانی لیڈر کو 15 منٹ بولنے دیا گیا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بلیک میلنگ نہیں چلنے دیں گے ایک تو آپ غلط بات کریں، غلط اعداد و شمار دیں تو ایسے نہیں چلے گا۔ پی ٹی آئی سینیٹرز نے کہا کہ جب تک ہمارے پارلیمانی لیڈر کو بولنے نہیں دیا جاتا ہم نہیں جائیں گے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ جب تک آپ نشستوں پر نہیں بیٹھیں گے میں ان کو بولنے نہیں دوں گا۔پی ٹی آئی سینیٹرز کے احتجاج پر علی ظفر کو بولنے کا دوبارہ موقع دے دیا گیا۔ سینیٹر علی ظفر نیکہا کہ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کو سیاست سے پاک کیا جائے، راوی کے کنارے پر روڈا بنایا گیا جس کی اجازت پنجاب حکومت نے دی، ہماری معیشت وینٹی لیٹر پر ہے اور حکومت تصویریں بنانے میں مصروف ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ تو کیا کرے حکومت، اس کے لیے کیا شوکت ترین کو دوبارہ لائیں؟۔وزیرقانون نے کہا کہ سیلاب قدرتی آفت تھی اور قدرتی آفت کے سامنے انسانی تدبیریں نہیں چلتیں، آج دنیا میں ہماری سنی جارہی ہے، آج امریکا ہماری بات سن رہا ہے، آپ کا تو فون بھی کوئی نہیں اٹھاتا تھا، ایمل ولی کی وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی ہے، وزیراعظم نے انہیں اپنے دوروں سے متعلق سارا بتایا ہے، ایمل ولی نے کہا مجھے ان حقائق کا نہیں علم تھا، اگر علم ہوتا تو یہ بات نہ کرتا، ایمل ولی آجائیں ایوان میں تو ان کو موجودگی میں بات کریں گے تو مناسب ہوگا۔سینیٹر عمر فاروق نے کہا کہ وزیر مملکت نے جس زبان میں بات کی وہ ایک وزیر کو زیب نہیں دیتی، ایمل ولی خان کو جو لاج ایلوکیٹ کیا گیا وہ سب کو پتا ہے، شہباز شریف صاحب سے پوچھیں انہوں نے ایمل ولی خان کو کس طرح لاج میں رہنے کی اجازت دی ہے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے ڈسٹرکٹ خاران میں قاضی کی عدالت کو آگ لگائی گئی ہے، پریزائیڈنگ افسر کو ان کی گاڑی سمیت اٹھایا گیا۔ یہ ریاست کا ایک ستون ہے اس کے ساتھ یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے جمعرات اور جمعہ کو ہم بات کریں گے۔ اس دوران سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کورم کی نشاندہی کردی۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو میں شدید تلخ کلامی ہوئی اور دونوں جانب سے سخت جملوں کا تبادلہ کیا گیا۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آپ جب سے ایوان میں آئے ہیں یہی کررہے ہیں، آپ بیٹھ جائیں اس پر سیف اللہ ابڑو بھڑک گئے اور کہا کہ آپ انگلی نیچے کرکے بات کریں۔ پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے دوبارہ کورم کی نشاندہی کی، اس دوران پی ٹی آئی ارکان بھی ایوان سے واک آئوٹ کرگئے۔دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی صدارت شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں ہی سپیکر نے وقفہ سوالات شروع کر دیا۔ اس دوران پیپلز پارٹی نے نکتہ اعتراض پر بات کرنے کا مطالبہ کیا تو سپیکر نے کہا پہلے یہ طے ہے کہ وقفہ سوالات کے دوران نکتہ اعتر اض پر بات کرنے کی اجازت نہیں۔ اسی دوران ایوان سے آوازیں آنا شروع ہوگئیں کہ انہیں پہلے بولنے کا موقع دیں۔ جس پر سپیکر نے پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو نکتہ اعتراض پر بات کرنے کا موقع دے دیا۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ہم حکومت کے اتحادی ہیں، ہم اس تحاد میں صرف اور صرف پاکستان کے لئے شامل ہوئے تھے،پیپلز پارٹی کے رہنما اور ورکرز پورے پاکستان میں فیس کر رہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے آج تک کسی پارٹی یا لیڈر کے خلاف بیان نہیں دیا، ہم پنجابی ہیں لیکن سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔کوئی اس بھول میں نہ رہے کہ پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگا دے گا، ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ متنازعہ بیانات دینے کی آخر وجہ کیا ہے۔ایسا نہ ہو کہ پھر صوبائیت کی بدبو پھیلا دی جائے، ہم تو پاکستان کھپے کا نعرہ لگانے والے لوگ ہیں،بلاول بھٹو وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز کی تعریف کر رہے ہیں۔میں نہیں چاہتا کہ ہم آپس میں الجھ پڑیں۔ہم وفاق کو کمزور کرنے والے نہیں ہیں۔ہم پاکستان میں امن اور مضبوط کرنے کی بات کرتے ہیں۔پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر ذمہ دارانہ بیانات سے ہمارے اور کارکنوں کو بہت تکلیف پہنچی۔ہم نے پوری زندگی ڈٹ کر اپوزیشن کی۔جب تک پیپلز پارٹی کو پنجاب کی طرف سے مطمئن نہیں کیا جاتا اس وقت تک ایوان میں کارروائی کا حصہ نہیں بن سکتے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں ہمارے پارلیمانی لیڈر سے سکیورٹی بھی واپس لے لی گئی،ایسی باتیں اور ہتھکنڈے تو ہم بھول چکے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر بی آئی ایس پی کو بروئے کار نہیں لانا چاہتے تو دشنام طرازی نہ کریں، یہ ایوان پورے پاکستان کا ہے، اس ایوان میں بیٹھنا پیپلز پارٹی کیلئے بہت مشکل ہے۔ ہم ایوان سے واک آئوٹ کرتے ہیں۔ جس کے ساتھ ہی پیپلز پارٹی ایوان سے واک آئوٹ کر گئی۔جب پیپلز پارٹی واک آئوٹ کر کے باہر جانے لگی تو فلور پر پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی اسد قیصر نے پیپلزپارٹی ارکان کو مخاطب کر کے کہا پیپلز پارٹی فرینڈلی فائر نہ کرے ،جرآت کرے، آئیں ہمارے ساتھ ملکر تحریک عدم اعتماد پیش کریں، نورا کشتی نہ کریں۔ اسی دوران پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے کورم کی نشاندہی کر دی۔سپیکر نے گنتی کروانے کی ہدایت کی۔ گنتی کروانے پر کورم پورا نکلا۔سپیکر نے اجلاس کی کارروائی چلاتے ہوئے ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار کو فلور دے دیا اور جیسے ہی انہوں نے بولنا شروع کیا اسی دوران پی ٹی آئی کے رکن ڈاکٹر نثار جٹ نے کورم کی نشاندہی کر دی۔گنتی کروانے پر کورم پورا نہ نکلا جس پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دیا۔کچھ دیر وقفہ کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہو اتو ڈپٹی سپیکر نے گنتی کی ہدایت کی۔کورم پورا نہ ہونے کے باعث ڈپٹی سپیکر نے اجلاس پرسوں جمعرات کی شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا۔