تحریر :چودھری فرحان شوکت ہنجرا
الیکٹرانک میڈیا ہو پرنٹ میڈیا ہو یا سوشل میڈیا حکومت میں ارباب اقتدار ہوں ارباب اختیار ہوں اپوزیشن ہو سیاسی جماعتیں یا سماجی تنظیمیں ہوں ہر سو سموگ کے فضا میں موجود ہونے پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اب سموگ کے فضا میں موجودگی اور لاہور شہر کو دنیا کے آلودہ شہروں میں پہلے نمبر پر آنے پر اب حکومت اور اداروں نے بھارتی پنجاب میں مونجی فصل کی باقیات جلانے پر دھواں کے باعث سموگ زمہ دار قرار دیا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ نے کہا ہے کہ سموگ کے معاملے میں بھارت سے ڈپلومیسی شروع کرنے کی ضرورت ہے
لاہور ماضی قریب میں باغوں کا شہر کہلاتا تھا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس باغ و بہار میں اضافہ ہوتا لیکن ان باغوں کو اجاڑنے کے ذمّہ دار حکومتیں اس میں شامل مفاد پرست عناصر سرکاری ادارے سب برابر مجرم ہیں لاہور کے چاروں اطراف میں امرود الیچی لوکاٹ فالسے کے باغات تھے دریائے روای کے دونوں اطراف سبزیوں کی کاشت اور باغات تھے اب ان جگہوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز نظر آتی ہیں لاہور بائی پاس شیخوپورہ کی جانب ٹریفک کی شہر میں ہیوی ٹریفک کو داخلے سے روکنے کیلئے بنایا گیا تھا تاکہ شہر لاہور سے گذرنے والی ہیوی ٹریفک کے دباؤ شور آلودگی سے شہریوں کو نجات بھی مل سکے شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر ہوسکے گی اور فضائی آلودگی میں خاطر خواہ کمی واقع ہو گی لاہور بائی پاس سگیاں کے امرود الیچی کے باغات کے درمیان سے بنایا گیا جب اس بائی پاس کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا تو لاہور سمیت پاکستان کے دیگر اضلاع سے آے ہوئے شہریوں نے دلکش و حسین نظارے دیکھتے اور باغوں کے درمیان سے گزرتے لوگ درختوں پر لگے پھلوں کو دیکھ کر سبحان اللہ کہتے اور سڑک کنارے سے امرود الیچی اور فالسے خریدتے آج لاہور بائی پاس کے دونوں اطراف باغات کا صفایا اور اب بات شرقپور روڈ پر باغات کے خاتمے کی طرف ٹڈی دل حملے کی صورت میں جا پہنچی ہے
دوسری جانب دریائے راوی کے ناردرن بائی پاس رنگ روڈ کی طرف آجائیں تو یہاں سے بھی سبزیوں کی کاشت اور باغات کے خاتمے کا نقطئہ آغاز ہوچکا ہے کالاشاہ کاکو سے لاہور رنگ روڈ کے اختتام اور کالا شاہ کاکو سے لاہور اسلام آباد موٹر وے سے ملتان کراچی لنک موٹر وے کے دونوں اطراف باغات اور زرعی رقبے ختم کرکے آپ کو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے سنگم کا بھیانک نظارہ دیکھنے کو ملے گا
راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ قائم کرکے دریائے راوی کو بچانے اس کے پانی کو محفوظ کرنے اور اس دریا پر بیراج بنانے کیلئے عوام الناس کو آگاہی دی جا رہی ہے ان عقل کے اندھوں کو معلوم ہونا چائیے جو دریا انڈس واٹر کمیشن کے عالمی معاہدے سے پاکستان کے حصے میں بچا ہی نہیں اس پر کس قسم کا آپ بیراج بنائیں گے او بدبختوں 77 برس سے دریائے راوی پر آپ سیوریج کے پانی ڈالنے ٹریٹمنٹ پلانٹ تو لگا نہیں سکے اور لاہور کے تمام ویسٹ پانی کے نالوں کا پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے دریائے راوی میں گرنے سے دریائی آلودگی سے مچھلی (راوی کھگہ) مچھلی ختم ہوگئی اور دریائے راوی ہیڈ بلوکی کے مقام پر لاہور شیخوپورہ ننکانہ اضلاع کے سیوریج پانی جمع ہونے سے فضا بدبودار اور یہاں سے آبپاشی کے لیے آگے اضلاع کی نہروں میں چھوڑے گئے سیوریج ملے پانی سے آلودگی اور بیماریوں کا سبب بن رہا ہے لیکن حکومت اور سرکاری اداروں کو عوام کے جان مال کے خاتمے اور بیماریوں میں بچاؤ سے کوئی غرض نہیں
راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی اب دریائے راوی کے کناروں کے اطراف رہائشی منصوبے ترتیب دے رہا ہے اور لکھوڈیر کے مقام پر رہائشی منصوبہ مکمل ہونے جا رہا ہے اسی طرح دھڑا دھڑ زرعی رقبے خریدے جا رہے ہیں اب چند سالوں کے بعد رودا منصوبے کے تحت آپ کو زرعی رقبوں اس پر سرسبز فصلوں باغات سبزیوں لائیو سٹاک کی بجائے کنکریٹ کے گھر نظر آئیں گے حکومت اور رودا اس کو بہترین ماحولیاتی منصوبہ قرار دے رہے ہیں اس کہتے ہیں نیا جال لائے پرانے شکاری
لاہور شہر میں رنگ روڈ اور شہر سے منسلک بند روڈ دروغہ والے علاقوں میں سٹیل ملز اور دیگر کارخانوں سے نکلنے والے زہریلے دھویں نے شہر لاہور کے باسیوں کو اڑدھے کی طرح لپیٹ لیا ہے محکمہ ماحولیات فضائی آلودگی پھیلانے والے اینٹوں کے بھٹے کو تو گرا رہا ہے لاہور میں آلودگی پھیلانے والے کارخانوں کی طرف کیوں رخ نہیں کرتا جو لاہور شہر کے عین وسط میں ہیں
ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک نے پاکستان کو وارننگ لیٹر جاری کیا ہے کہ پاکستان میں شہروں کا پھیلاؤ بغیر کسی منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے بالکل صحیح کہا کہ آپ زرا جی ٹی روڈ لاہور سے کھاریاں تک دیکھیں ایسے لگتا ہے کہ یہ سب جڑواں شہر ہیں ہر دو کلومیٹر کے فاصلے پر آپ کو ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر شہر کو نیا نام دیا گیا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں بے ہنگم رہائشی یونٹس کمرشل منصوبوں سے آلودگی ہر سو پھیل چکی ہے کوئی ادارہ اپنی نااہلی کی زمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے
حکومت پنجاب کی جانب سے لاہور رنگ روڈ کے اطراف آلودگی کے خاتمے کیلئے شجر کاری کوریڈور بنایا جائے گا چلیں اچھا ہے شجر کاری ہو لیکن جب تک حکومت گرین لینڈ پر ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے پر پابندی کے قانون پر سو فیصد عملدرآمد نہیں کروائے گی اس کے آلودگی کے خاتمے کے اقدامات کو شیخ چلی منصوبے ہی سمجھیں جائیں گے آج لاہور ضلع شیخوپورہ قصور کا اپس میں لنک بتاتا ہے کہ یہ تینوں جڑواں اضلاع ہیں ضلع قصور اور ضلع شیخوپورہ کا لاہور کی حد تک پھیلاؤ سے خطرناک آلودگی ہو چکی ہے خدارا حکمران ہوش کے ناخن لیں اور تمام اضلاع بالخصوص لاہور کی حدود میں بقیہ ماندہ زرعی رقبے پر تاحیات ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے پر پابندی عائد کر دے وگرنہ نمائشی اقدامات سے سموگ نہیں رکے گی اب تو حکومت اور سرکاری ادارے عوام الناس کو آگاہی مہم کے زریعے کہ رہے ہیں کہ سموگ کے مضر اثرات سے خود کو محفوظ رکھنے کیلئے گھروں میں رہیں بچے بھورے افراد ہر گز گھر سے باہر نہ نکلیں جو روزگار کے لیے نکلیں وہ ماسک پہنیں اور کل کلاں کو حکومت اور ادارے کہیں گے سموگ پر مکمل قابو پانے تک اب عوام زیر زمین چلے جائیں باقی آگے کا مرحلہ بعد میں دیکھا جائے گا۔