چوہدری محمد سرور چئیرمین شعبہ خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ
اللہ تعالیٰ نے جس کائنات کی تخلیق کی وہ بے حد وسیع ، خوبصورت ، حسین وجمیل ، صفاف وشفاف اور اجلی ہے۔لیکن انسان اپنی نت نئی ایجادات اور مصنوعات کے مرہون منت اس کائنات کو آلودہ اور تباہ کررہا ہے۔ یہ آلودگی درحقیقت زہر ہے جو انسانی صحت اور زندگی کو برباد کررہی ہے۔ اس وقت جو چیزیں کائنات کو آلودہ اور انسانی صحت کو تباہ کررہی ہیں ان میں سر فہرست۔۔۔۔ ’’’ سموگ ‘‘‘ ہے۔ سموگ بنیادی طور پر ایسی فضائی آلودگی ہے جو انسانی آنکھ ،دماغ اور جسم کو تاحد نگاہ متاثر کرتی ہے، سموگ کو زمینی ’’ اوزون ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ،یہ ایک ایسی بھاری اور سرمئی دھند کی تہہ کی مانند ہو تی ہے جو ہوا میں جم جاتی ہے۔سموگ میں موجود دھوئیں اور دھند کے اس مرکب یا آمیزے میں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، میتھین جیسے مختلف زہریلے کیمیائی مادے بھی شامل ہوتے ہیں اور پھر فضا میں موجود ہوائی آلودگی اور بخارات کا سورج کی روشنی میں دھند کے ساتھ ملنا سموگ کی وجہ بنتا ہے۔ بارشوں میں کمی، فضلوں کا جلایا جانا، کارخانوں گاڑیوں کا دھواں ،درختوں کا بے تحاشا کٹا? اور قدرتی ماحول میں بگاڑ پیدا کرنا۔۔۔۔یہ سموگ کے پھیلنے کی بنیادی وجوہات ہیں۔
سب سے پہلے ہمیں دھند اور سموگ میں فرق معلوم ہونا چاہئے کیونکہ سموگ کی موجودگی اور اس کے مضر اثرات کے بارے میں جاننے کے بعد ہی ہم اپنے آپ کو اس سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
دھند اور سموگ میں بظاہر کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا لیکن دھند اور سموگ کی کیفتیں مختلف ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ جب ہوا میں موجود بخارات کم درجہ حرارت کی وجہ سے کثیف ہو جاتے ہیں تو یہ ماحول میں سفیدی مائل ایک موٹی تہہ بنا دیتے ہیں جسے دھند کہا جاتا ہے، اسی دھند میں دھواں اور مختلف زہریلے کیمیائی مادے شامل ہو جائیں تو یہ دھند مزید گہری اور کثیف ہو جاتی ہے جسے سموگ کہاجاتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ افراد فضائی آلودگی کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، دراصل سموگ میں بنیادی طور پر ایک زہریلا مادہ ہوتا ہے جو پرٹیکولیٹ مادہ 2.5 کہلاتا ہے اور یہ پی ایم 2.5 ایک انسانی بال سے تقریباً چار گنا باریک ہوتا ہے یہ مادہ ہوا کے ذریعے انسانی پھیپھڑوں میں بآسانی داخل ہو کر مختلف بیماریوں اور پھیپھڑوں کے کینسر تک کا باعث بن سکتا ہے۔
سموگ سے بچا? کے دو طریقے ہیں ایک طریقہ وہ ہے جو ہر انسان اپنے طور پر اختیار کرسکتا ہے۔ یعنی مناسب حفاظتی لباس۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ جب بھی باہر جائیں تو ماسک پہنیں یا دوسرے آلات استعمال کریں جو نقصان دہ ذرات سے پھیلنے والی آلودگی سے بچاتے ہیں۔یہ ضروری ہے کہ جس قدر ممکن ہو سموگ کے اثرات سے بچا جائے تاہم اگر آپ کی رہائش زیادہ آلودگی والے علاقے میں ہے تو پھر ضروری ہے کہ اپنی صحت کی حفاظت کیلئے دوسرے طریقے بھی اختیار کریں۔یعنی دل کے مریض گھر وں میں رہ کر اسٹیم لیں، ٹھنڈے مشروبات اور کھانے پینے کی کھٹی ترش اشیاسے پرہیز کریں ، اگر کسی کو دل یا پھیپھڑوں کا دائمی مسئلہ ہے، جیسے دمہ یا اس جیسی کوئی دیگر بیماری ہے تو پھر ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
اگر کسی کے سینے میں جکڑن، آنکھوں میں جلن، یا کھانسی کی علامات ہیں تو ڈاکٹر سے ملیں، بچوں کو آلودگی کے اثرات بڑوں کی نسبت زیادہ محسوس ہوتے ہیںاس لئے بچوں کے لئے حفاظتی اقدامات کرنا بے حد ضروری ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ سموگ سے بچا? کیلئے اپنے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں کے شیشے بند رکھیں، جب تک آلودہ دھوئیں والا موسم ختم نہیں ہو جاتا تب تک کھلی فضا میں جانے سے گریز کریں ، خاص کر سانس کی تکلیف میں مبتلا افراد ایسے موسم میں ہرگز باہر نہ نکلیں، ایسے موسم میں جسمانی ورزش کرنے سے بھی دریغ کیا جائے اور اپنی گاڑیوں کو کھڑے رکھنے کی پوزیشن کے دوران انجن کو چلتا مت چھوڑیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سموگ سے بچنے کے لئے جہاں حکومت کو آلودگی کے خاتمہ میں سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے وہاں ماحول دوست ایندھن کا استعمال بھی نہایت ضروری ہو چکا ہے۔ اس بارے میں ضروری ہے کہ جو لوگ دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں چلاتے ہیں ان کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے جبکہ ہم سے ہر شخص خود بھی ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی مرمت کروائے تاکہ فضا میں آلودگی نہ پھیلے۔
نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں پنجاب اور خاص کر لاہور میں سموگ کی وبا عام ہوجاتی ہے۔ حکومت اس سے نمٹنے کے کیلئے ہر سال پنجاب بھر میں سموگ ایمرجنسی نافذ کردیتی ہے ایک ماہ کے لئے تمام سرکاری و نجی سکولوں میں طلبا و طالبات کیلئے ماسک لازمی قراردے دیا جاتا ہے یا پھر کچھ دنوں کیلئے سکولوں کالجوں میں چھٹیاں دے دی جاتی ہیں۔کچھ دیگر حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر بھی توجہ دلائی جاتی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ہر سال نومبر اور دسمبر کے مہینے میں سموگ سے بچا? کیلئے جتنے بھی اقدامات کئے جاتے ہیں یہ سب عارضی اقدامات ہیں اصل بات یہ ہے کہ لاہور جو پاکستان کا دوسرا بڑا صنعتی اور تجارتی مرکز ہے اس شہر میں ٹریفک بے ہنگم ہوچکی ہے ، لاہور جو کبھی باغوں کا شہر تھا اب یہ دنیا کا آلودہ ترین شہر بن چکا ہے۔ آبادی کے تناسب سے درخت نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گندگی پھیلانے والوں کے خلاف کوئی کروائی نہیں کی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آنے والے نئے سال میں سموگ پہلے سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے۔ لہذا اب ضروری ہوچکا ہے کہ لاہور کی آبادی کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کیلئے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ مثلاََ بے ہنگم آبادی کو کنٹرول کیا جائے ، ٹریفک کا نظام بہتر بنایا جائے اور شجر کاری میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔
اس سارے معاملے کا ایک اہم ترین پہلو یہ ہے کہ بھارت کے صوبہ مشرقی پنجاب اور دہلی سے آنے والی آلودہ ہوائیں بھی لاہور میں سموگ کے پھیلنے کا سبب بنتی ہیں اس کے تدارک کیلئے گذشتہ دنوں یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تھی کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز بھارتی حکومت کو خط لکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ یہ اچھی بات ہے لیکن خط لکھنے سے پہلے ہمیں یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ کیا بھارتی حکومت پاکستان کی طرف سے لکھے گئے خط کو کوئی اہمیت بھی دے گی۔۔۔۔؟ جس بھارت نے پاکستان کے ساتھ کئے گئے وعدوں میں سے کبھی کوئی وعدہ بھی پورا نہیں کیا وہ بھارت سموگ کے خاتمہ کیلئے لکھے گئے خط کو بھلا کیا اہمیت دے گا۔بھارت وہ ملک ہے جس نے پاکستان کو دولخت کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ، جس نے ریاست جموں کشمیر میں حق خودارادیت کیلئے کئے گئے وعدے کو توڑا ، جس نے سندھ طاس معاہدہ کو پا?ں کے نیچے روندا۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر بھارت مقبوضہ جموں کشمیر کی آزادی اور سندھ طاس معاہدہ کے وعدے پورے کردے تو پاکستان سے سموگ ختم ہوسکتی ہے۔اسلئے کہ جب پاکستان کو پانی وافر ملے گا تو یہاں ہریالی ہوگی جس ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ میں مدد ملے گی۔
پاکستان مرکزی مسلم لیگ جہاں سموگ کے بارے میں آگاہی مہم چلاتی ہے وہاں ماحولیاتی آلودگی اور بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں سے بچا? کیلئے ہر سال ملک بھر میں بڑے پیمانے پر شجرکاری بھی کی جاتی ہے جس میں نہ صرف مرکزی مسلم لیگ کی لیڈر شپ اور کارکن پودے لگاتے بلکہ عام لوگوں کو بھی شجر کاری کی ترغیب دلاتے ہیں۔شجر کاری ایسا عمل ہے کہ جس کا حکم اللہ کے رسول ? نے بھی دیا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سے ہر شخص شجرکاری کرے اور سموگ کے خاتمہ کیلئے اپنا تاکہ اس بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر قابو پایا جاسکے۔