ڈینگی کا قہر، حکومت کی بے خبری ،عوام جائے کدھر؟

سجاد علی شاکر
لاہور، جو کسی دور میں گلابوں کا شہر کہلاتا تھا، اب ڈینگی مچھروں کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت اور بھی افسوسناک ہو جاتی ہے جب یہ جانا جائے کہ یہ شہر نہ صرف صوبہ پنجاب کا دل ہے بلکہ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کا سیاسی حلقہ بھی۔ وہی شہباز شریف جنہیں ایک زمانے میں ‘‘ڈینگی کے خلاف جنگ’’ کا ہیرو قرار دیا جاتا تھا، آج ان کے اپنے حلقے میں مچھر عوام کا خون چوس رہے ہیں، اور حکومت خوابِ غفلت میں ہے۔ڈینگی بخار کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ پاکستان میں ہر سال اس وبا کی بازگشت سنائی دیتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیوں ہم ہر سال اسی بحران کا سامنا کرتے ہیں؟ کیا یہ صرف مچھر کا قصور ہے یا کہیں نہ کہیں ہماری حکومتی مشینری بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہے؟ خاص طور پر جب لاہور جیسے حساس شہر میں مچھر قابو سے باہر ہوں، تو یہ صرف صحت کا نہیں، گورننس کا بھی سوال ہے۔شہباز شریف کے سابقہ دورِ حکومت کو یاد کریں تو اْن کی انتظامی مشینری دن رات سڑکوں پر نظر آتی تھی۔ اسپرے مہمات، عوامی آگاہی کیمپ، ہسپتالوں میں ہنگامی وارڈز، اور خود وزیر اعلیٰ کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی یہ سب کچھ ایک جامع حکمت عملی کا حصہ تھا۔ لیکن آج جب وہ وزیر اعظم ہیں، تو کیا وہ اپنے حلقے کی خبر نہیں لے سکتے؟ کیا وہ صرف وفاقی سطح پر معاملات دیکھنے کے پابند ہیں؟ یا پھر لاہور اب ان کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا؟اس کے ساتھ ہی، موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز پر بھی ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ ایک متحرک اور بااختیار لیڈر کے طور پر سامنے آنا چاہتی ہیں تو انہیں سب سے پہلے صحت جیسے اہم مسئلے پر قیادت دکھانا ہو گی۔ ڈینگی کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں، یہ ایک خاموش قاتل ہے جو ہر سال سینکڑوں جانیں نگل لیتا ہے۔ مریم نواز کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس وبا کا نوٹس لیں، ضلعی انتظامیہ کو متحرک کریں، اور واضح ہدایات جاری کریں کہ اس پر قابو پانے کے لیے کون سے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈینگی کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ سب سے پہلے تو شہر کی صفائی کا ناقص نظام ہے۔ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، بند نالے، صاف پانی کا کھڑا ہونا  یہ سب ڈینگی مچھر کی افزائش گاہیں ہیں۔ دوسری بڑی وجہ عوامی آگاہی کی کمی ہے۔ اگر حکومت وقت پر آگاہی مہمات شروع کرے، تو عوام بھی احتیاطی تدابیر اختیار کریں گے۔ بدقسمتی سے، نہ میڈیا پر مہم چلائی جا رہی ہے، نہ ہی تعلیمی اداروں یا مساجد میں شعور بیدار کرنے کی کوئی کوشش کی جا رہی ہے۔تیسری اور سب سے سنگین خامی ہمارے صحت کے نظام میں ہے۔ ہسپتالوں میں ٹیسٹنگ کی سہولت محدود ہے، ادویات کی قلت ہے، اور عملے کی تربیت بھی ناکافی ہے۔ کئی مریض صرف اس لیے جان کی بازی ہار جاتے ہیں کہ وقت پر تشخیص نہیں ہو پاتی۔ ایسی صورتحال میں حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھنا فطری ہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت صرف دعوؤں سے آگے بڑھے۔ محض کاغذی اجلاس یا پریس کانفرنسوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔ اس کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہر یونین کونسل کی سطح پر انسداد ڈینگی کمیٹی قائم کی جائے۔ روزانہ کی بنیاد پر اسپرے مہمات چلائی جائیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں طلباء کو آگاہی دی جائے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو متحرک کیا جائے تاکہ وہ اپنے محلوں میں صفائی مہم کا حصہ بنیں۔عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ اگر ہم خود اپنی گلیوں اور گھروں میں پانی کھڑا ہونے سے نہ روکیں، تو محض حکومت کو الزام دینا کافی نہیں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ ایک اجتماعی جنگ ہے، جس میں حکومت اور عوام دونوں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔آخر میں ایک بار پھر حکومت وقت، خصوصاً وزیر اعلیٰ مریم نواز سے اپیل ہے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدہ لیں۔ یہ وقت سیاست کا نہیں، خدمت کا ہے۔ اگر آج بروقت اقدامات نہ کیے گئے، تو کل یہ وبا ایک بڑے انسانی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ شہباز شریف کے سیاسی ورثے کو بچانے کے لیے بھی ضروری ہے کہ لاہور کو ڈینگی سے پاک کیا جائے ،ورنہ تاریخ سوال کرے گی کہ جب عوام کو مچھر مار رہا تھا، تو حکمران کیا کر رہے تھے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔