سموگ کی آلودگی

محمدفاروق سپرا
سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے؟ 
 اس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے؟
لین دین،کاروبار پر ٹیکس،بجلی پرٹیکس،ٹیکس پرٹیکس،زندگی پرٹیکس ،موت پرٹیکس ،ٹیکسوں کی اس بھرمارمیں سانس لینے پر ابھی تک ٹیکس عائدنہ ہونا غنیمت تھا۔ مگرستم ظریفی دیکھئے کہ جس پرفضا میں امیرغریب سانس لیتاہے اس پر اسموگ کی ا?لودگی قابض ہوگئی ہے۔ سانس لیناتو فری ہے مگر ہم کیسی فضا میں سانس لے رہے ہیں  اس پرسوالیہ نشان ہے۔ صوبائی دارالحکومت لاہورمیں فضا پر اسموگ کاقبضہ چھڑانے کے لیے ابھی تک جوبھی اقدامات کیے گئے ہیں وہ سب بے سود نظرا?تے ہیں۔ فیکٹریاں بند کرائی گئیں،بھٹے بندکرائے گئے،دھواں دینے والی گاڑیوں کے خلاف ا?پریشنز جاری ہیں،گرین لاک ڈاؤن لگاکر،اسکولوں کے اوقات کارتبدیل کرکے،ہفتے میں دوچھٹیاں کرکے اورتواوراسکول بند کرکے بھی دیکھ کربھی دیکھ لیا۔لاہو پھربھی فضائی ا?لوگی پرانڈیکس کی پہلی پوزیشن کااعزاز سمیٹ رہاہے۔ شہر میں فضائی آلودگی کا گزشتہ برسوں کے سارے کا ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔اسموگ کاربن مونوا?کسائیڈ،نائٹروجن ا?کسائیڈ اور میتھین سمیت دیگرزہریلے کیمیائی مادوں پرمشتمل ہوگی ہے۔ جنوبی ایشیائی مملکن بالخصوص پاکستان بھار ت اور چین اسموگ سے سب سے زیادہ متاثرہیں۔اسمو گ بننے  کی بری وجہ پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں سے گیسز کااخراج، صنعتی پلانٹس اور سرگرمیاں،فصلیں جلانا یاانسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی حرارت ہے۔مکانات اور سڑکوں کی تعمیر ،صنعتوں سے نکلنے والا دھواں اور بڑی مقدار میں پیدا ہونے والا کوڑا کرکٹ بھی آلودگی کی وجوہات میں شامل ہیں۔
 اسموگ کی  وبا کا منبع مشرقی پنجاب ہے جہاں کسان فصلوں کی باقیات جلارہے ہیں اور ہوا کا رخ مشرق سے مغرب کی جانب ہونے کے باعث جلائی جانیوالی فصلوں اور کچرے کے دھوئیں سے ضلع لاہور سب سے زیادہ متاثر ہوا ہیاور اسکے اثرات نے نہ صرف وسطی بلکہ جنوبی پنجاب کے گنجان ا?باد اضلاع کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
مشرقی پنجاب میں اس وقت جالندھر ،لدھیانہ، چندی گڑھ، بٹھنڈہ، کرنال، گورداسپور، امرتسر اور اٹاری وغیرہ فوگ کی لپیٹ میں ہیں اور ہوائیں اس کے تباہ کن اثرات لاہور اور وسطی پنجاب تک پہنچا رہی ہیں۔ پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کیلئے یہ مسئلہ وقت گزرنے کے ساتھ گھمبیرتر ہوتا جارہا ہے۔ایک سروے کے مطابق 2070ء￿ تک پاکستان اس کی وجہ سے قدرتی وسائل کے بھاری نقصانات سے دوچار ہوسکتا ہے جو ایک قومی المیہ ہوگا۔
فضائی ا?لودگی تعلیمی اداروں سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ اینٹوں کے بھٹوں، فیکٹریوں اور گاڑیوں سے پیدا ہوتی ہے۔ان کو بند نہیں کرنا چاہیے ان سے خارج ہونے والے دھوئیں کو کم کرنا چاہیے۔یہ کام سائنس اور ٹیکنالوجی سے ممکن ہے۔ محکمہ ماحولیات کاعملہ صرف تنخواہیں لینے اور صنعتوں کے مالکان سے دیہاڑیاں لگانے میں مگن ہے۔دھواں چھوڑتی گاڑیاں شہریوں کے لیے مسلسل عذاب بنی ہوئی ہیں۔محکمہ ٹرانسپورٹ کا کام ناکارہ گاڑیوں کو سڑکوں پر ا?نے سے روکنا ہے۔یہ راز کسی کو معلوم نہیں کہ کون ان گاڑیوں کے مالکان کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرکے دے رہاہے۔ملک خداداد میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ہر فرد اپنی ذاتی سواری استعمال کرنے پر مجبور ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کا اڑدہام ہے جو فضائی ا?لودگی کا یک بڑا سبب ہے۔حکومت کو چایئے کہ فوری طور پر بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا مربوط نظام متعارف کراوئے  تاکہ ٹریفک کا دبائو کم ہو۔ٹریفک کے بہائو میں ایک بڑی رکاوٹ تجاوزات کی بھر مار ہے۔یہ تجاوزات میونسپل کارپوریشنز کے ملازمین کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔افسران بالا کی اس حوالے سے چشم پوشی کئی سوالات اٹھا تی ہے۔سڑکوں کی خستہ حالت بھی گردو غبار کی صورت میں فضائی ا?لودگی میں اپنا حصہ دال رہی ہے۔گزشتہ چند برسوں سے فصلوں کی باقیات کو جلانے کی رسم رواج پا رگئی ہے۔اس عادت بد کی وجہ سے نہ صرف فضائی ا?لودگی میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اس کے دھوئیں سے ہر سال موٹر وے اور بڑی شاہراہوں پر خطرناک حادثات بھی ہو رہے ہیں۔


ماہرین ماحولیات نے موجودہ فضا میں شہریوں کو باہر نکلنے سے پرہیز کرنے کی ہدایت  کی ہیاورکہاہے کہ بچے، بزرگ اور بیمار افراد گھروں میں رہنے کو ترجیح دیں۔ ہ فضا شہریوں کے ساتھ چرند پرند اور نباتات کے لیے بھی نقصان دہ ہے، موجودہ ماحول میں شہری متوازن خوراک اور پانی کا زیادہ استعمال کریں۔ اگر سموگ کے خاتمہ کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو کوئی امیر یا غریب ،ادنیٰ یا اعلیٰ اس بلا سے محفوظ نہیں رہے گا۔