ڈاکٹر جمشید نظر
نومبر کا مہینہ آتے ہی پنجاب کی فضا کسی ناگہانی آفت کا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ کے باسی صبح آنکھ کھولتے ہیں تو سورج نہیںبلکہ ایک گہری راکھ جیسی دھند ان کا استقبال کرتی ہے۔ اس دھند کو ہم نے ’’سموگ‘‘ کا نام دیا ہے—دھواں (Smoke) اور دھند (Fog) کا ایسا امتزاج جو نہ صرف آنکھوں کو چبھتا ہے بلکہ سانسوں کو بھی زہر آلود کر دیتا ہے۔یہ کہانی آج کی نہیں،سموگ پچھلے ایک عشرے سے پنجاب کے آسمان پر سایہ فگن ہے مگر افسوس کہ ہم نے ہر سال کی طرح اس بار بھی اس مسئلے کو قدرتی آفت سمجھ کر نظر انداز کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سموگ کسی قدرتی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی کوتاہیوں اور ماحولیاتی غفلت کا شاخسانہ ہے۔پنجاب کے کھیت جب فصلِ خریف کے بعد خالی ہوتے ہیں تو کسان نئی فصل کے لیے زمین تیار کرنے کے لیے پرانی فصل کی باقیات کو آگ لگا دیتے ہیں۔ یہ عمل ہزاروں ایکڑ پر پھیل کر فضا ء میں کاربن، مٹی کے ذرات اور نائٹروجن آکسائیڈز خارج کرتا ہے یہی آلودگی جب نومبر کی خشک اور ٹھنڈی ہوا میں قید ہوتی ہے تو ’’سموگ‘‘ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔دوسری بڑی وجہ ٹریفک کا دھواں ہے۔ لاہور اور دیگر شہروں میں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے۔ ناقص ایندھن، پرانے انجن، اور ناقص مینٹیننس نے ماحول کو زہر آلود کر دیا ہے۔ فیکٹریوں کے چمنیوں سے اٹھتا دھواں، اینٹوں کے بھٹے اور غیر معیاری پیٹرول نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس سال سموگ کے مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ پنجاب حکومت نے 10 اضلاع میں ’’سموگ ایمرجنسی‘‘ نافذ کی ہے، اسکولوں، دفاتر اور مارکیٹوں کے اوقات میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ لاہور میں ’’کلین اینڈ گرین مہم‘‘ کے تحت سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ اور درختوں کی شجرکاری تیز کر دی گئی ہے۔محکمہ ماحولیات نے کھیتوں میں فصلوں کی باقیات جلانے پر سخت پابندی عائد کر رکھی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، متعدد کسانوں کے خلاف مقدمات بھی درج ہوئے ہیں۔ ٹریفک پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرے۔حکومت نے اینٹوں کے بھٹے جدید ’’زِگ زیگ ٹیکنالوجی‘‘ پر منتقل کرنے کا عمل بھی تیز کر دیا ہے جس سے دھویں کے اخراج میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتی علاقوں میں ماحولیاتی معائنے کا نظام بھی متحرک کر دیا گیا ہے۔
لیکن سچ یہ ہے کہ حکومت اکیلے اس جنگ کو نہیں جیت سکتی۔ سموگ کے خلاف جنگ تبھی کامیاب ہوگی جب شہری اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ سب سے پہلے گاڑیوں کی دیکھ بھال کریں، غیر ضروری سفر کم کریں اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔ گھروں میں کچرا یا پلاسٹک جلانے سے گریز کریں کیونکہ یہی وہ معمولی عمل ہے جو اجتماعی طور پر بڑے نقصان میں بدل جاتا ہے۔شہری ماسک کا استعمال کریں خاص طور پر بچے، بزرگ اور دمے کے مریض گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔ پانی زیادہ پئیں، آنکھوں کو صاف پانی سے دھوئیں اور گھروں میں ایئر پیوریفائر یا کم از کم گیلی چادر کا استعمال کریں۔
پنجاب میں اگر ہم سموگ کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں فوری اور دیرپا پالیسیوں پر عمل کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے زرعی شعبے میں کسانوں کے لیے متبادل طریقے متعارف کرائے جائیں تاکہ وہ باقیات جلانے کی بجائے انہیں کھاد یا چارے کے طور پر استعمال کر سکیں۔ صنعتی شعبے کو جدید فلٹر ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے اور ناقص ایندھن کے استعمال پر مکمل پابندی لگائی جائے۔سب سے بڑھ کر، ہمیں اپنے شہروں کو درختوں سے دوبارہ آباد کرنا ہوگا۔ لاہور کبھی ’’باغوں کا شہر‘‘ کہلاتا تھا، مگر آج وہاں درخت کم اور عمارتیں زیادہ ہیں۔ اگر ہم نے فطرت سے دشمنی بند نہ کی تو آنے والی نسلیں آکسیجن کے لیے بھی ترس جائیں گی۔سموگ دراصل ہماری اجتماعی زندگی پر ایک سوالیہ نشان ہے،یہ بتا رہی ہے کہ ہم نے ترقی کے نام پر فطرت کے ساتھ کیسا ظلم کیا ہے۔ حکومت اگر سخت فیصلے کرے، عوام شعور پیدا کریں اور ہم سب اپنے حصے کی ذمہ داری نبھائیں تو یقینایہ خطرناک دھندجو آج ہمارے آسمان کو نگل چکی ہے ایک دن چھٹ جائے گی۔ اگر ہم نے صرف ماسک پہن کر اور گھروں کے دروازے بند کر کے خود کو محفوظ سمجھ لیا تو یاد رکھیے یہ زہر صرف ہوا میں نہیں بلکہ ہماری صحت اور رویوں میں بھی شامل ہو جائے گا۔