علیمہ خان نے مقدمے کی سماعت کے دوران اپنی گرفتاری دینے کی پیشکش کردی

علیمہ خان نے مقدمے کی سماعت کے دوران اپنی گرفتاری دینے کی پیشکش کردی

اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی بہن علیمہ خان کی ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

درخواست میں علیمہ خان نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔ سماعت کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عظمت تارڑ اور ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر بھی پیش ہوئے۔ایف آئی اے کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان کا نام ڈی آئی جی راولپنڈی پولیس کی سفارش پر ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا، اور ان کے خلاف راولپنڈی کے تھانہ صادق آباد میں انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمہ درج ہے۔علیمہ خان کے وکیل رانا مدثر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کی درخواست مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے تھی، لیکن انہیں اس بات کی آگاہی نہیں دی گئی تھی کہ ان کا نام ای سی ایل میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علیمہ خان صرف عمران خان کی بہن ہونے کی وجہ سے مسائل کا شکار ہو گئی ہیں اور انہیں اس سلسلے میں عدالت سے انصاف کی توقع ہے۔اسی دوران علیمہ خان خود روسٹرم پر آ کر بیان دینے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس نے انہیں اشتہاری قرار دیا ہے اور وہ یہاں عدالت میں بیٹھ کر اپنے گرفتاری کے لیے تیار ہیں۔

علیمہ خان نے عدالت سے کہا کہ وہ ڈی آئی جی کو بلا کر انہیں گرفتار کر لیں، اور وہ کورٹ سے نہیں جائیں گی جب تک ڈی آئی جی پیش نہیں ہوتے۔جسٹس خادم حسین سومرو نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ اگر ڈی آئی جی اسلام آباد میں ہوتے تو انہیں بلا لیتے، لیکن یہ پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ علیمہ خان اسلام آباد کے کسی کیس میں مطلوب نہیں ہیں اور پولیس کو مکمل معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔علیمہ خان نے عدالت کو بتایا کہ انہیں کوئی جلدی نہیں ہے اور وہ اپنے ذاتی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے بعد عدالت نے کہا کہ علیمہ خان کی درخواست میں جو استدعا کی گئی تھی، وہ 26 ویں ترمیم کے تحت نہیں کی جا سکتی۔ علیمہ خان نے آخر میں عدالت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتی ہیں۔