راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کو ہونے والے احتجاج کے دوران درج مقدمے میں سرکاری وکیل مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ اگر علیمہ خان آئندہ سماعت پر ٹرائل میں شریک نہ ہوئیں تو عدالت انسداد دہشت گردی ایکٹ کی شق 19 کے تحت سرکاری وکیل مقرر کرے گی۔عدالتی حکم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر علیمہ خان مسلسل غیر حاضری کرتی رہیں، تو عدالت اسٹیٹ کونسل مقرر کرے گی۔ علاوہ ازیں، عدالتی حکم کے مطابق، اگر ملزمہ کی غیر حاضری کی وجہ سے استغاثہ کے 8 گواہان متاثر ہوتے ہیں، تو انہیں فی کس 10 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
پچھلی سماعت پر، علیمہ خان کو انسداد دہشت گردی عدالت سے عارضی تحویل میں لیا گیا تھا، اور انہیں جانے کی اجازت دی گئی تھی، جب انہوں نے 10 لاکھ کے دو ضمانتی مچلکے جمع کروائے۔عدالتی احکامات کے مطابق، عدالت آئندہ سماعت پر علیمہ خان کی شرکت کو یقینی بنانے اور مقدمے کے جلدی نمٹانے کے لیے اقدامات کرے گی۔