ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہیں۔
انہوں نے 5 مئی کو اسلام آباد میں پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ عباس عراقچی نے اس موقع پر دونوں ممالک سے کشیدگی میں کمی اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ اس کے بعد، 8 مئی کو انہوں نے نئی دہلی میں بھارتی حکام سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ایران کی ثالثی کے ذریعے پاک بھارت تعلقات میں تناؤ کو کم کرنا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز 22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے شہر پاہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے سے ہوا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جسے پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی حملے میں ملوث نہیں تھا۔ اس کے بعد بھارت نے پاکستان اور پاکستان زیر انتظام کشمیر میں میزائل حملے کیے، جن میں 31 پاکستانی شہری ہلاک ہوئے۔پاکستان نے ان حملوں کو جنگی کارروائی قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔ اس تناظر میں ایران نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں کمی لانے کی اپیل کی ہے۔ایران کی جانب سے کی جانے والی ان ثالثی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان کشیدگی پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
ایران نے اپنے روابط کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں کی ہیں۔اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے عالمی برادری کی جانب سے بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی اپیل کی ہے۔ امریکہ اور چین سمیت دیگر عالمی طاقتیں بھی اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں تاکہ خطے میں امن قائم رہ سکے۔ایران کی جانب سے کی جانے والی ان ثالثی کوششوں سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں تناؤ کم ہو سکتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس کے لیے دونوں ممالک کو اپنی پالیسیوں میں لچک دکھانی ہوگی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔