لفظوں کا محاذ اور تاریخ کی صدا

سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
تواے اس خطے کے باسیو!کیاہم بھی اپنی آنکھوں سے وہ دن دیکھنے کے متحمل ہوسکتے ہیں،جب ہماری زمینیں جلیں،آسمان سیاہ ہو جائے،اوردریاخون کی طرح بہنے لگیں؟ اور آج اگرکوئی ہمیں للکارتاہے،اگرکوئی ہمارے دریاں کوروکنے کی دھمکی دیتاہے تووہ صرف پانی نہیں روک رہا،وہ حیات کی رگ کاٹنے کاعندیہ دے رہاہے۔پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کاوہ دوٹوک بیان،ٹھیک اوربروقت بیان کہ پانی روکاتواسے اعلانِ جنگ سمجھاجائے گایہ کسی جذباتی مہم جوئی کانعرہ نہیں،بلکہ ایک تاریخی عزم کااعادہ ہے ۔یہ وہی پاکستان ہے جس نے لاکھ قربانیاں دے کرآزادی لی،یہ وہی قوم ہے جواپنے شہیدوں کے لہوکوپرچم کارنگ سمجھتی ہے،اوریہ وہی وطن ہے جس کی مٹی میں غیرت رچی ہوئی ہے،نہ کہ مصلحت۔
ہم جانتے ہیں ایٹمی جنگ کامطلب کیاہوتاہے۔نہ صرف بربادی بلکہ نسل کشی،خاموش قبرستان،اورتابکاری کی لاشیں،ایٹم بم صرف دھماکہ نہیں کرتا۔وہ نسلیں مٹادیتاہے۔وہ ماں کی گودیں سونی کردیتاہے۔وہ صدائیں چھین لیتاہے۔وہ اذانیں خاموش کردیتاہے۔وہ ہمیشہ کیلئے مندروں کے سنکھ خاموش کردیتاہے۔گرجاگھروں کی گھنٹیوں کے نام ونشان مٹ جاتے ہیں۔وہ تہذیبوں کوراکھ کر دیتاہے،کوئی ماتم کرنے والابھی نہیں بچتا۔
یہ وقت ہے جب ہم محض ردِعمل سے آگے بڑھ کرفہم،حکمت،اورعزم کی راہ اپنائیں۔یادرکھیں!مگرہم جنگ کے نہیں،امن کے وارث ہیں۔ہم خنجرنہیں،قلم کے قائل ہیں لیکن اگر خود مختاری پرآنچ آئی توپھرہماری خامشی۔آسمان کی گرج بن جائے گی۔ہم صرف تلوارنہیں ،ہم قلم بھی ہیں۔ہم صرف افواج نہیں،ہم افکاربھی ہیں۔ہم صرف بم نہیں،ہم دعابھی
ہیں۔ہم جنگ نہیں چاہتے،ہم امن کے پروردہ ہیں مگر ہم اس امن کی قیمت قومی وقارپرنہیں چکائیں گے۔ہاں،ہم جنگ نہیں چاہتے۔ہم صلح کے خواہاں ہیں۔ہم علم وعمل کے سفیر ہیں لیکن اگرہماری خودمختاری پرہاتھ ڈالاگیاتوپھریادرکھوہم اپنے بازوں سے ایٹم نہیں پھینکیں گے،ہم اپنی وحدت سے وہ دھماکہ کریں گے کہ جس کے بعدقیامت تک کسی اور دہماکے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی ان شاء اللہ۔  
اب وقت ہے کہ ہم متحدہوںجیسے چٹانیں دریاکوروکتی ہیں،ویسے ہم ہرسازش کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیواربن جائیں۔ہم اختلافات کوپسِ پشت ڈالیں،لسانی،مسلکی، سیاسی تقسیم سے اوپراٹھیں اورایک ایساپاکستان پیش کریں جونہ صرف ایٹمی قوت ہو،بلکہ اخلاقی قوت،تہذیبی روشنی،اورفکری استقلال کاعلمبردارہو۔ہندوستان اگرطاقت کے نشے میں ہمیں آزماناچاہتاہے،تووہ جان لے پاکستان نہ کبھی جھکاہے،نہ جھکے گا۔مگرہمارایہ عزم،دنیاکیلئے بھی ایک پیغام ہے،اگرایٹمی جنگ ہوئیتوصرف دوقومیں نہیں جلیں گی،انسانیت کامستقبل راکھ ہوجائے گا۔
جن کے ہاتھوں میں فیصلہ ہے،ان کے دلوں میں احساس بھی ہوناچاہئے۔جواقتدارکے ایوانوں میں بیٹھے ہیں،وہ یہ نہ بھولیں کہ قوموں کاانجام میزپرنہیں،قبرپر لکھاجاتاہے۔ اقوام متحدہ،عالمی طاقتیں،انسانی حقوق کے علمبردارتم سب کہاں ہو؟کیاتمہاراضمیرصرف اس وقت جاگتاہے جب کسی تیل کے کنویں پرخطرہ ہو؟کیاکروڑوں جانوں کاامن، تمہاری سفارتی پیچیدگیوں سے کمترہے؟اگردنیانے آج آوازنہ اٹھائی،توکل صرف سناٹاباقی رہ جائے گااوردنیاکے ضمیر کویہ پیغام دیناچاہتاہوں کہ اگرتم نے خاموشی اختیارکی تو کل تاریخ تمہیں معاف نہیں کرے گی اورپاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان رہے گا،تاقیامت رہے گااوروہ رہے گااپنے عِلم،اپنے قلم،اپنے پرچم،اوراپنے عزم کے ساتھ!
اب میں اقوام عالم کے امن پسندشہریوں سے سوال کرتاہوں کہ کیاہم وہ دن دیکھناچاہتے ہیں؟کیاہم چاہتے ہیں کہ ہمارے شہروں پروہ سائے منڈلائیں جنہوں نے ناگاساکی اور ہیروشیماکواندھااوربہراکردیاتھا؟نہیں۔۔۔ہرگزنہیں،ہم ایسی جنگ نہیں چاہتے لیکن اگرمجبور کئے گئے توپھردنیاکویہ جان لیناچاہئے کہ یہ جنگ صرف دہلی اوراسلام آباد کے درمیان محدودنہیں ہوگی بلکہ یہ جنگ ساری انسانیت کواندھیروں میں دھکیل دے گی۔اگرایٹمی جنگ چھڑگئی تودہلی،ممبئی،کلکتہ،لاہور،اسلام آباد،یہ سب کچھ فقط جغرافیہ نہیں رہے گا ، یہ انسانی ضمیر پرجلتے ہوئے بدنماداغ بن جائیں گے۔ 
یہ وقت ہے جب ہمیں،جی ہاں ہمیںاہلِ پاکستان کواوراقوام عالم کوبالخصوص مودی جنگی مافیاکوالفاظ کاایک نیاقلعہ بناناہے، ایک نئی فصیل،جوتوپ کے گولوں سے نہیں،علم،وقار اور تدبرسے قائم ہو۔کیونکہ جس دن الفاظ شکست کھاجائیں،اس دن انسانیت بھی ہارجاتی ہے۔ہمیں یادرکھناہوگاکہ جنگیں صرف میدان میں نہیں،اذہان میں بھی لڑی جاتی ہیں۔اور اگرہم نے اس فکری محاذپرشکست کھائی،توہماری ایٹمی قوتیں بھی صرف خاموش دیوثابت ہوں گیوہ دیوجن کے پاس طاقت توہو،مگربصیرت نہ ہو۔
اے اہلِ وطن!خطرہ قریب ہے،مگرہلاکت لازمی نہیں۔جنگ قریب ہے،مگرامن ناممکن نہیں۔اگرہم نے عقل کے چراغ کوبجھنے نہ دیا، اگرہم نے تاریخ کے سبق کویادرکھا،اگرہم نے اپنی آوازکوتلوارنہیں،امن کاچراغ بنایاتوشاید ہم اس تاریکی سے ایک نئی روشنی کشیدکرسکیں۔
پس آئیے،ہمارے لفظ توپ نہ بنیں،تلوارنہ بنیں،بلکہ وہ نغمے ہوں،جن میں صلح کاترنم ہو،تاریخ کی گونج ہو،اورمستقبل کایہ وعدہ پنہاں ہوکہ ہم امن کے باسی توہیں لیکن قومی غیرت ہمیں جینے کاحق سکھاتی ہے اورجوہمیں مارنے کیلئے سازشیں کررہے ہیں،ان کویہ ذہن نشین کرلیناچاہئے کہ خودزندہ رہنے کی خواہش رکھنے والوں کودوسروں کی زندگی سے کھیلنے کاکوئی حق نہیں اور قدرت کابھی یہ اصول ہے کہ ظلم آخرظلم ہے،بڑھتاہے تومٹ جاتاہے۔
اے میرے دیس کے باسیو!ہمیں علم کے ہتھیارسے لیس ہوناہے،ہمیں کردارکی اونچائیوں پرکھڑاہوناہے،ہمیں اپنے اتحادسے دنیاکوبتانا ہے کہ یہ ملک نہ کبھی جھکے گا،نہ بکے گا،نہ مٹایاجاسکے گا۔ان شاء اللہ
اے اہلِ پاکستان!آسیسہ پلائی ہوئی دیواربن جا،اپنے اختلافات کودفن کردو،لسانیت کو،فرقہ پرستی کو،سیاست کی وقتی کشمکش کو پسِ پشت ڈال دو،آج ہمیں اتحادکی زنجیربنناہے، جیسے دریا بند کرتے ہیں،ہم فتنے بندکریں گے۔آج وقت ہے کہ ہم صرف ایٹمی طاقت نہیں،بلکہ اخلاقی،فکری اورتہذیبی طاقت بن کردنیاکے سامنے کھڑے ہوں۔
آخرمیں یاددہانی کیلئے اہم نکات کوقوم کے نام اپنی پکارکودہرادیتاہوں کہ:
٭جب پانی روکاجائے،توسمجھوسانس روکی جارہی ہے اورہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
٭ہم ایٹمی قوت سہی،مگرہماری اصل طاقت وحدت،وقاراورانصاف ہے۔
٭پاکستانی مٹی میں غیرت رچی ہے،مصلحت نہیں۔
٭اگرخامشی رہی توکل صرف سناٹاباقی رہ جائے گا۔
٭نہ دبیں گے،نہ بکیں گے،پاکستان کیلئے ہرقربانی قبول ہے۔
٭یہ ملک فقط جغرافیہ نہیں،یہ ایک نظریہ ہیجومٹایانہیں جاسکتا-
٭پاکستان شہیدوں کی دھرتی ہے اورہمارے سارے شہیدہمارے سروں کے تاج ہیں۔
٭ایٹمی جنگ صرف دوممالک کونہیں،پوری انسانیت کوراکھ کردے گی۔ایٹمی جنگ نہ صرف ایک تہذیبی قیامت ہوگی بلکہ قیامت سے پہلے قیامت ثابت ہوگی۔
ہمارے مقتدراربابِ اختیار کیلئے ضروری ہے کہ:
٭پاکستان کوسفارتی سطح پرمعاملے کوبھرپورطریقے سے اٹھاناچاہیے۔
٭اندرون ملک پانی کے انتظام کوبہتربنانے کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ قلت سے نمٹاجاسکے۔
٭متبادل توانائی ذرائع،جیسے سولراورونڈپاور،کی طرف توجہ دینی چاہیے۔
٭علاقائی اوربین الاقوامی ثالثی فورمزکوفعال طریقے سے استعمال کرناچاہیے۔
اورآخرمیں، میں آپ سب کواقبال کی وہ صدایاددلاتاہوں جوآج پھرگونجتی ہے
نہیں ہے ناامیداقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرانم ہوتویہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
اس زوردارعزم کے ساتھ: 
٭قوم پرقربان ہے اپنی جان،دھرتی پرقربان ہے ساری آن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام اورپاکستان کاپرچم ہمیشہ سربلندرہے گا۔۔ان شاء اللہ
پاکستان زندہ بادوپائندہ باد