سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
آج میں اس دھرتی کی تقدیرکیلئے اپنے ملک کے اہلِ قلم،اہلِ فکراوروہ جودردِدل رکھتے ہیں،ان سے مخاطب ہونے کی جسارت کررہا ہوں۔آج جب ہم تاریخ کے سنگِ میل پرکھڑے ہیں،تو ہوائیں فقط ہوانہیں،یہ وقت کانوحہ پڑھ رہی ہیں۔جنوبِ ایشیا کی فضائیں وہی ہیں، لیکن ان میں وہ صدیوں پرانی دھڑکنیں گونج رہی ہیں جوکبھی پانی کے کناروں پر تہذیبوں کی بنیادڈالتی تھیں،اورکبھی انہی پانیوں پر جنگ وجدل کی کشتیاں بہالے جاتی تھیں۔
یہ وقت عام نہیں،یہ گھڑی محض لمحوں کی روانی نہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جوقوموں کی پیشانیوں پرتاریخ کی مہریں ثبت کرتاہے۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں الفاظ،خنجروں کی نوک پررکھے جاتے ہیں،اورفیصلے،صرف قراردادوں میں نہیں،قوموں کے ضمیرمیں تحریرکیے جاتے ہیں۔یہ کوئی معمولی لمحہ نہیںیہ وہ گھڑی ہے جب الفاظ،بارود سے زیادہ بھاری ہوچکے ہیں۔جب ایک جملہ،توپ کے گولے سے بڑھ کردھماکہ خیزہے۔جب بیانات،میدانِ جنگ کی گھن گرج سے کہیں بلندترہیں۔جب لہجے،سرحدوں کوپارکرتے ہیں اورتلواروں کی کاٹ سے زیادہ دلوں کوچیرتے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جوقوموں کی پیشانیوں پرتاریخ کی مہریں ثبت کرتاہے۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں الفاظ، خنجروں کی نوک پررکھے جاتے ہیں۔
یہ وقت عام وقت نہیں ہے۔یہ وہ گھڑی ہے جس پرتاریخ اپناقلم رکھتی ہیاورتقدیراپنے فیصلے لکھتی ہے۔جنوبی ایشیاکے افق پرجو بادل چھائے ہوئے ہیں،وہ صرف سیاست کی گرد نہیں۔یہ تاریخ کی وہ راکھ ہے جوماضی کی تباہ تہذیبوں سے اٹھ رہی ہے۔جنوبی ایشیاکی ہوائیں،آج کوئی عام ہوانہیں،یہ وقت کی سسکیاں ہیں۔یہ ماضی کی بازگشت ہے۔یہ مستقبل کی لرزتی ہوئی پیش گوئی ہے۔جنوبی ایشیاکے افق پرجوبادل چھائے ہوئے ہیں،وہ محض موسمی تغیرنہیں،یہ تاریخ کی وہ گردہے جوتہذیبوں کے ملبے سے اٹھتی ہے۔ پاکستان اوربھارتدوایٹمی قوتیںآج ایک ایسی نوکِ سناں پرکھڑی ہیں،جہاں ایک معمولی لغزش،ایک ناپختہ بیان،ایک ناقابلِ برداشت حرکت،ہمیں اس دہانے پرلاسکتی ہے جہاں انسانیت کی سانس بھی محض ماضی کاقصہ بن جائے۔
ہندوستان اورپاکستانیہ محض دوملک نہیں،بلکہ دوتاریخیں،دویادداشتیں،دوخواب ہیں،جوکبھی ایک ہی خواب تھے۔ان کے درمیان جوتناؤابھراہے،وہ صرف سفارتی قضیہ نہیں،بلکہ وہی پرانی صداہے جوہمالیہ کی چوٹیوں سے لے کرسندھ کی وادیوں تک سنائی دیتی ہے۔ہمیں یادہے،ہم کوسب کچھ یادہے۔
جب دوایٹمی قوتیں۔۔۔۔۔۔۔ایک دوسرے کے خلاف زبان کی بارود لے کرنکل آئیں توسمجھ لویہ صرف سرحدی کشیدگی نہیں،یہ انسانی تہذیب کے کنگرے پرلٹکتی ہوئی وہ آخری صداہے جوہمیں خبردارکررہی ہے۔پاکستان اوربھارت،دوایٹمی قوتیں،آج زبانوں سے آگ برسارہی ہیں،اوریہ زبان کی بارودکسی روزاس دنیاکودہکتی، چنگھاڑتی آگ بناسکتی ہے۔
اور اب،جب کوئی یہ کہتاہے کہ’’ہم پانی بندکردیں گے‘‘تویہ پانی نہیں،یہ تہذیب کاوہ چشمہ ہے جسے بندکرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔یہ قومی غیرت کااستعارہ ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ گنگا،یہ سندھیہ صرف دریانہیں،یہ ہماری تاریخ کی رگیں ہیں۔ان رگوں کوکاٹنا،محض ہائیڈروپالیٹکس نہیں،یہ اس دھرتی کی للکارہے جسے قربانی کی تاریخ نے سینچاہے۔یہ تاریخ سے بغاوت ہے۔بھارت کاپانی بندکرنے کی دھمکی،یہ صرف پانی نہیں،یہ ہماری زندگی کی رگ کاٹنے کی کوشش ہے۔
مودی کا بیان کہ حملہ آوروں کوتصورسے بڑی سزاملیگی،یہ فقط بیان نہیں،یہ ایک خطرناک اشارہ ہے۔اس جملے میں صرف الفاظ نہیں،ایک گھمنڈکی گھنٹی بجتی ہے۔یہ وہی گھنٹی ہے جو تاریخ کے ہرظالم کے قدموں سے بندھی ہوئی تھیکبھی نمرود کے ساتھ،کبھی فرعون کے ساتھ،کبھی ہٹلرکے ساتھ۔ اوراب مہاشیمودی کاغلط فہمی پرمبنی بیان جوجنوب ایشیاکے امن کولرزا رہاہے۔
اس کے جواب میں پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کاوہ بیانکہ اگربھارت نے پانی روکاتواسے اقدامِ جنگ سمجھاجائے گاتویہ اعلان،صرف حکومت کابیان نہیں،یہ کوئی معمولی سفارتی جملہ نہیں،یہ22کروڑدلوں کی دھڑکن ہے،یہ اس قوم کی وہ صدائے بازگشت ہے جس کی درجنوں مثالیں تاریخ کے اوراق میں مسکرارہی ہیں۔ ابھی کل کی توبات ہے کہ چونڈہ میں دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی میں قوم کے سپوتوں نے وہ کارنامے دکھائے کہ بھارتی ٹینک چلانے والا کی طرف خاکی وردی والاجونہی اس کاتعاقب کرتاہے تووہ اپنے ٹینک کو"ریورس"واپس بھگاناشروع کردیتاہے۔ہم نے اقبال کی نظموں میں سناتھالیکن دشمنوں نے اپنے آنکھوں دیکھے ان واقعات کوکتابوں میں رقم کردیا:
خودی کوکربلنداتناکہ ہرتقدیرسے پہلے
خدابندے سے خودپوچھے،بتاتیری رضاکیاہے
آئیے!پہلے سندھ طاس معاہدے کے متعلق جانتے ہیں کہ آخریہ پانی کے ہتھیارکاآغازکہاں سے ہوا؟
میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان اوربھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا۔یہ معاہدہ برصغیر کے بڑے دریاوں کے پانی کی تقسیم کاضابطہ فراہم کرتاہے۔معاہدے کے تحت تین مشرقی دریاستلج،بیاس،اورراویبھارت کودئیے گئے،جبکہ تین مغربی دریاسندھ،جہلم،اورچنابپاکستان کودیے گئے۔یہ معاہدہ اب تک خطے میں پانی کی تقسیم کے حوالے سے امن کی بنیاد رہاہے،باوجوداس کے کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان کئی جنگیں اورکشیدگیاں ہوئیں۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ حال ہی میں بھارت نے سندھ طاس معاہدے پردوبارہ غورکرنے یااس سے پیچھے ہٹنے کی بات کی ہے۔ بعض بھارتی رہنماوں اورحکومتی بیانات میں یہ اشارہ دیاگیاہے کہ بھارت مغربی دریاں کے پانی کومکمل طورپراستعمال کرنے کی کوشش کرے گا،جس پرپاکستان کاانحصارہے۔بھارت کے اس مقف کوبعض مبصرین"پانی کوجنگی ہتھیار"کے طورپراستعمال کرنے کی کوشش قراردے رہے ہیں۔
بھارت نے مغربی دریاں پرمتعددڈیم اورہائیڈروپاورجیسے کہ بگلیہار،کشن گنگا،اوررتلے ڈیم منصوبے شروع کیے ہیں،ان منصوبوں سے اگرچہ براہ راست پانی کارخ موڑناممکن نہیں،تاہم ان کی مددسے پانی کے بہاکومحدودوقت کیلئے روکاجاسکتاہے،جوکہ فصلوں کیلئے اہم اوقات میں پاکستان کیلئے نقصان دہ ہوسکتاہے۔بھارت نے اقوام متحدہ یادیگرعالمی پلیٹ فارمزپرسندھ طاس معاہدے کے بعض نکات پراعتراضات اٹھائے گئے اورپاکستان کی شکایات کے حل میں تاخیرکامعاملہ اب تک جاری ہے۔
جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کابڑاانحصارزراعت پرہے اورزراعت کیلئے پانی کی مستقل فراہمی ناگزیرہے۔پانی کی کمی سے فصلوں کی پیداوارمتاثرہوسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کوپاکستان کی رگِ حیات سمجھاجاتاہے۔پاکستان کے کئی ہائیڈروپاورمنصوبے دریاں کے پانی پرمنحصرہیں۔پانی کی کمی توانائی کے شعبے میں بھی بحران پیداکرسکتی ہے۔ دریاوں کے بہامیں کمی سے ماحولیاتی نظام بھی متاثرہوسکتاہے،خاص طورپرسندھ ڈیلٹامیں نمکیات کاپھیلابڑھ سکتاہے۔اور برسوں سے یہ محسوس کیاجارہاتھاکہ مودی حکومت جوہندوقوم پرستی کی علمبردارکہلاتی ہے،یہ واضح ہوگیاتھاکہ پانی پرکشیدگی دونوں ملکوں کے درمیان مزیدتناوکوجنم دے سکتی ہے،جوکہ خطے میں امن کیلئے خطرناک ہوگااوراب یہ شک یقین کی شکل اختیار کرگیاہے۔
عالمی برادری نے سندھ طاس معاہدے کوایک کامیاب ماڈل قراردیتے رہیں ہیں اوریہی وجہ ہے پاک وہندکی چارجنگوں کے باوجود اس معاہدے کوہتھیارکے طورپراستعمال کرنے کی کوشش نہیں کی گئی،یہی وجہ ہے عالمی برادری اس کی حفاظت پرزوردے رہی ہے لیکن اب یوں محسوس ہورہاہے کہ خطے میں مودی ایک نئے چانکیہ کی شکل میں اپنے ہاں انتخابات میں کامیابی کیلئے اور اپنے اقتدارکودوام دینے کیلئے اپنے ہی شہریوں کے ساتھ فالس فلیگ آپریشن کاسہارالیکراس خطے کوایٹمی جنگ کے خطرات سے قریب ترکرنے کی احمقانہ کوششیں کررہے ہیں۔
مگراس سے پہلے کہ ہم اس اندھے کنویں میں جھانکیں،آئیں ذرارک کرتاریخ سے کچھ سیکھ لیں۔
کیاتم نے روم کی تباہی نہیں دیکھی؟کیابغدادکے جلتے ہوئے کتب خانے،تمہارے خوابوں میں نہیں آتے؟کیاہیروشیمااورناگاساکی کے سائے،آج بھی ہمارے ضمیر پر لرزہ طاری نہیں کرتے؟ کیاہیروشیمااورناگاساکی کے کھنڈرات کے مناظر اور مارے جانے والوں کی چیخیں تمہیں سنائی نہیں دے رہیں؟کیاہیروشیمااورناگاساکی کے نوحے ابھی تک تمہارے بہرے کانوں کے پردے پھاڑنے کیلئے کافی نہیں؟
یادرکھو!ایٹم بم صرف ہتھیارنہیںوہ نسلوں کازہرہے۔ایک باروہ راکھ برسادے توصدیوں تک صرف خاموشی جنم لیتی ہے،اوروہ بھی ایسی خاموشی جسے نہ اذان توڑتی ہے،نہ کسی مندر کاسنکھ،نہ کسی گرجاگھرکی گھنٹیاں،نہ ماں کی لوری،نہ بچے کی ہنسی۔(جاری ہے)