آپا منزہ جاوید
انسان کی زندگی میں بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ ان کے اثرات ہماری توقع سے کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ لفظ بھی ایسی ہی ایک حقیقت ہیں۔ ہم روزانہ بے شمار لفظ بولتے ہیں، کچھ خوشی میں، کچھ غصے میں، کچھ محبت سے اور کچھ محض اپنی بات منوانے کے لیے۔ بولتے ہوئے شاید ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہماری زبان سے نکلنے والا ایک جملہ کسی کے دل میں کون سا بیج بو رہا ہے۔ یہ بیج محبت کا بھی ہو سکتا ہے اور نفرت کا بھی، اعتماد کا بھی اور احساسِ کمتری کا بھی، امید کا بھی اور مایوسی کا بھی۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہم نے تو بس ایک بات کہی تھی، مگر کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ وہ بات سننے والے کے دل پر کیا اثر چھوڑ گئی۔ بولنے والے کے لیے وہ چند لمحوں کی گفتگو ہوتی ہے، لیکن سننے والے کے لیے ممکن ہے وہ ایک ایسا تجربہ بن جائے جسے وہ برسوں نہ بھلا سکے۔ وقت گزر جاتا ہے، محفل ختم ہو جاتی ہے، لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں، مگر بعض الفاظ ذہن کے کسی گوشے میں محفوظ رہتے ہیں۔ کبھی یاد آ کر مسکراہٹ بن جاتے ہیں اور کبھی دل میں ایسی چبھن پیدا کرتے ہیں جسے بیان کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
ہر لفظ کی اپنی تاثیر ہوتی ہے۔ کچھ لفظ محبتوں کے پھول اگاتے ہیں، کچھ امید کی کونپلیں نکالتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو بھرے گلستان کو اجاڑ دیتے ہیں۔ لفظ بظاہر بے جان دکھائی دیتے ہیں، مگر انسانی احساسات پر ان کا اثر کبھی کبھی کسی گہرے زخم سے کم نہیں ہوتا۔ سخت لفظوں کے بھی دانت ہوتے ہیں، یہ انسانی روح کو کاٹ لیتے ہیں۔ ان کے زخم جسم پر دکھائی نہیں دیتے، مگر دل کی تہوں میں اتر کر انسان کے اعتماد، خوشی اور تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ کبھی ایک طنزیہ جملہ کسی کی برسوں کی محنت کو بے معنی محسوس کرا دیتا ہے، کبھی کسی کی تضحیک اس کے اندر اپنی ذات کے بارے میں شکوک پیدا کر دیتی ہے اور کبھی غصے میں کہے گئے چند الفاظ محبت سے قائم کیے گئے رشتے میں ایسی دراڑ ڈال دیتے ہیں جسے بھرنے میں بہت وقت لگتا ہے۔
اس کے برعکس محبت سے کہے گئے الفاظ کسی مایوس انسان کے اندر امید جگا سکتے ہیں۔ حوصلہ افزائی کے چند جملے اسے اپنی صلاحیتوں پر دوبارہ یقین کرنے کا موقع دے سکتے ہیں۔ خلوص سے ادا کی گئی معذرت کسی ناراض دل کی سختی کم کر سکتی ہے اور احترام سے کہی گئی اختلافی بات کسی تنازعے کو بڑھنے سے روک سکتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے الفاظ ہمارے ہاتھوں میں دیے گئے ایسے بیج ہیں جنہیں ہم ہر روز دوسروں کے دلوں میں بوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ پھول بن کر خوشبو پھیلاتے ہیں اور کچھ کانٹے بن کر راستے دشوار کر دیتے ہیں۔
دعا کو دیکھیے، بظاہر چند لفظ ہوتے ہیں، مگر ان میں انسان کی خواہشیں، امیدیں، بے بسی، ندامت اور یقین سمٹ آتے ہیں۔ ہم اپنے دل کی بات لفظوں میں ڈھال کر اللّٰ? تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیں، اپنی حاجت بیان کرتے ہیں، مغفرت طلب کرتے ہیں، توبہ کرتے ہیں اور اپنے دکھوں کے ساتھ اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ کبھی زبان پر چند الفاظ ہوتے ہیں، مگر ان کے پیچھے احساسات کی ایک پوری دنیا آباد ہوتی ہے۔ یہی تو لفظوں کی وسعت ہے کہ بظاہر معمولی دکھائی دینے والا لفظ اپنے اندر کتنے ہی معنی، کیفیات اور داستانیں سموئے ہوئے ہوتا ہے۔
انسان جب کسی سے معافی مانگتا ہے تو چند لفظوں سے اپنے پچھتاوے کا اظہار کرتا ہے، جب کسی کو تسلی دیتا ہے تو مختصر سی گفتگو سے اس کے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور جب کسی سے محبت کا اظہار کرتا ہے تو لفظوں کے ذریعے اپنے احساسات دوسرے تک پہنچاتا ہے۔ لیکن ہر موقع پر الفاظ کی تاثیر صرف ان کی خوب صورتی میں نہیں ہوتی، ان کے پیچھے موجود سچائی، اخلاص اور عمل بھی اہم ہوتے ہیں۔ معافی کے الفاظ اسی وقت معنی رکھتے ہیں جب رویّے میں اصلاح کی کوشش بھی دکھائی دے، اور محبت کا اظہار اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب عمل بھی اس کی گواہی دے۔
جب کسی کے دل پر غم کی چادر تنی ہو، جب کسی کی آنکھیں جدائی کے دکھ سے بھیگی ہوں یا زندگی کی مشکلات نے اس کے حوصلے توڑ دیے ہوں تو ہم اس کے سامنے بیٹھ کر لفظوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ایسا کچھ کہیں جس سے اس کے دل کو تسکین ملے، اسے تنہائی کا احساس کم ہو اور وہ اپنے دکھ کے ساتھ خود کو بے سہارا نہ سمجھے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہر دکھ کا حل ہمارے پاس نہیں ہوتا، ہر مشکل کو فوراً دور نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ہر آنسو کو چند جملوں سے روکا جا سکتا ہے، لیکن محبت اور خلوص سے کہے گئے الفاظ کسی غم زدہ انسان کو یہ احساس ضرور دلا سکتے ہیں کہ کوئی اس کے درد کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بعض اوقات بڑے بڑے مشوروں کے بجائے صرف اتنا کہنا کہ میں تمہاری بات سن رہا ہوں، تمہارا دکھ میرے لیے اہم ہے، زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
لفظوں کا انتخاب صرف بولنے کا ہنر نہیں، احساس اور انسان شناسی بھی ہے۔ ہم جس طرح اپنے لباس، گھر اور محفل کو موقع کے مطابق ترتیب دیتے ہیں، اسی طرح گفتگو میں بھی سامنے والے کی کیفیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ خوشی کے موقع پر کہے گئے الفاظ اور غم کے لمحے میں کہے گئے الفاظ کی ضرورت مختلف ہوتی ہے۔ کسی کو حوصلہ دینے کے لیے کبھی امید دلانا ضروری ہوتا ہے، کبھی حقیقت کو نرمی سے تسلیم کرنا اور کبھی صرف خاموشی سے اس کے پاس بیٹھنا کافی ہوتا ہے۔ اچھے لفظ وہ نہیں جو ہر موقع پر ایک ہی طرح بولے جائیں، بلکہ وہ ہیں جو موقع، کیفیت اور مخاطب کے احساسات کو سمجھتے ہوئے ادا کیے جائیں۔
لفظوں کی اہمیت سمجھنے کے لیے عدالتوں کا رخ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایک اچھا وکیل اپنے مؤقف کو کس طرح ترتیب دیتا ہے، کون سا لفظ کہاں استعمال کرتا ہے، کس دلیل کو پہلے اور کس کو بعد میں پیش کرتا ہے، یہ سب اس کے فن کا حصہ ہے۔ وہ جانتا ہے کہ محض بلند آواز میں بولنا مؤثر گفتگو نہیں، بلکہ بات کو واضح، مربوط اور مدلل انداز میں پیش کرنا اصل مہارت ہے۔ تاہم الفاظ کی خوب صورتی کبھی جھوٹ کو سچ اور جرم کو بے گناہی میں تبدیل کرنے کا جواز نہیں بن سکتی۔ وکالت کا اصل کمال یہ ہے کہ حقائق کو قانون کے مطابق اس انداز میں پیش کیا جائے کہ انصاف تک پہنچنے میں مدد ملے۔ یہی اصول ہماری روزمرہ گفتگو پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ایک ہی بات تلخی سے کہی جائے تو دل آزاری کا سبب بن سکتی ہے اور دلیل، احترام اور مناسب الفاظ کے ساتھ کہی جائے تو کسی کی سوچ بدل سکتی ہے۔ اس لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ ہم کیا
کہہ رہے ہیں، یہ بھی ضروری ہے کہ کس طرح کہہ رہے ہیں اور ہماری گفتگو کا مقصد کیا ہے۔
لفظوں کی طاقت کا دائرہ صرف ہماری گفتگو تک محدود نہیں۔ ماں کی گود میں بچے کو سنائی جانے والی لوری سے لے کر فلمی گیتوں اور وطن و ملت کے لیے گائے جانے والے ترانوں تک، ہر جگہ لفظوں اور سْروں کا ایک رشتہ موجود ہے۔ لوری کے نرم بول بچے کے لیے اپنائیت اور سکون کی یاد بن سکتے ہیں، کسی گیت کے الفاظ محبت اور جدائی کے احساسات کو زبان دے سکتے ہیں، جبکہ قومی ترانوں کے معنی اور آہنگ لوگوں میں وطن سے وابستگی اور اجتماعی جذبہ پیدا کر سکتے ہیں۔ جب الفاظ سْروں کے ساتھ ملتے ہیں تو ان کا پیغام بعض اوقات دل و دماغ پر زیادہ گہرا نقش چھوڑتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم صرف دھن اور آواز سے متاثر نہ ہوں بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ ان الفاظ میں کون سا خیال، کون سا پیغام اور کون سی سوچ پوشیدہ ہے۔
بچوں کی تربیت میں بھی سننے اور بولنے والے الفاظ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک بچے کو بار بار یہ کہنا کہ تم سے کچھ نہیں ہو سکتا، اس کے اندر اپنی صلاحیتوں پر شک پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اس کی غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے یہ یقین دلایا جائے کہ کوشش سے بہتری ممکن ہے تو یہی بات اس کے اندر آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کر سکتی ہے۔ اسی طرح استاد کا ایک حوصلہ افزا جملہ کسی خاموش طالب علم کو اپنی صلاحیت آزمانے کی ترغیب دے سکتا ہے، جبکہ سب کے سامنے کی گئی تحقیر اسے اپنی بات کہنے سے خوف زدہ کر سکتی ہے۔ اصلاح کا مقصد اگر کسی کو بہتر بنانا ہے تو اس کے لیے ایسے الفاظ کیوں نہ چنے جائیں جو غلطی کا احساس بھی دلائیں اور آگے بڑھنے کا راستہ بھی دکھائیں؟
ہمارے معاشرے میں طنز کو بعض اوقات ذہانت، بے باکی یا حاضر جوابی سمجھ لیا جاتا ہے۔ محفل میں کسی کی کمزوری کا ذکر کر کے سب کو ہنسا دینا کامیابی تصور کیا جاتا ہے، مگر اس ہنسی کے پیچھے چھپے ہوئے دکھ کو کون دیکھتا ہے؟ کسی کی مالی حالت، شکل و صورت، تعلیم، زبان، عمر یا گھریلو حالات کو مذاق کا موضوع بنانا شاید چند لوگوں کے لیے تفریح ہو، لیکن جس شخص کو نشانہ بنایا جائے، اس کے لیے یہ تجربہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔ ہر ہنسی خوشی کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض لوگ محفل میں مسکرا دیتے ہیں تاکہ اپنی دل آزاری ظاہر نہ ہونے دیں، مگر تنہائی میں وہی الفاظ انہیں بار بار یاد آتے ہیں۔
ہماری گھریلو زندگی میں بھی لفظوں کے یہی بیج روز بوئے جاتے ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان اختلاف ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ دو انسانوں کی سوچ، مزاج اور تجربات میں فرق ہو سکتا ہے، لیکن اختلاف کے دوران استعمال ہونے والے الفاظ تعلق کی بنیاد کو مضبوط بھی کر سکتے ہیں اور کمزور بھی۔ ایک دوسرے کی بات سے اختلاف کرنا الگ بات ہے اور دوسرے کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا الگ۔ غصے میں کہے گئے طنزیہ جملے، پرانی غلطیوں کے طعنے اور دوسروں کے سامنے بے عزت کرنے کی عادت دلوں میں فاصلے پیدا کرتی ہے۔ رشتوں میں محبت صرف اچھے موقعوں پر کہے گئے خوب صورت الفاظ کا نام نہیں، بلکہ مشکل لمحوں میں اپنی زبان کو قابو میں رکھنے کا نام بھی ہے۔
لفظوں کی ذمہ داری اب سوشل میڈیا تک بھی پھیل چکی ہے۔ ایک جملہ چند لمحوں میں سینکڑوں یا ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ کسی کی
تصویر، رائے یا تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں کہ دوسری طرف بھی ایک انسان موجود ہے، جس کے احساسات ہیں اور اپنی زندگی کے ایسے حالات ہیں جن سے ہم واقف نہیں۔ اختلافِ رائے ہر انسان کا حق ہے، لیکن اختلاف کے نام پر گالی دینا، کردار پر حملہ کرنا یا کسی کو ذلیل کرنے کی کوشش کرنا دلیل نہیں۔ ہماری تحریر محفوظ رہ سکتی ہے اور ہمارے الفاظ دوسروں تک پہنچ سکتے ہیں، اس لیے لکھنے سے پہلے بھی وہی احتیاط ضروری ہے جو بولنے سے پہلے ہونی چاہیے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ہر اختلاف کو دشمنی اور ہر تنقید کو توہین نہ سمجھیں۔ انسان کی اصلاح کے لیے تنقید کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن تنقید اور تضحیک میں فرق ہے۔ تنقید کسی کام کی خامی واضح کرتی ہے، جبکہ تضحیک انسان کی قدر گھٹانے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر کسی تحریر میں کمزوری ہو تو اس کی نشاندہی کی جا سکتی ہے، اگر کسی فیصلے میں غلطی ہو تو دلیل کے ساتھ بات کی جا سکتی ہے، لیکن اس کے لیے کسی کی تذلیل ضروری نہیں۔ نرم لہجہ سچائی کو کمزور نہیں کرتا اور سخت لہجہ ہر بات کو درست ثابت نہیں کر دیتا۔ اصل اہمیت بات کے وزن، دلیل اور مقصد کی ہوتی ہے۔
یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ ہمارے الفاظ کے اثرات ہمیشہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں ہوتے۔ کبھی نیک نیتی سے کہی گئی بات بھی کسی کو بری لگ سکتی ہے اور کبھی ہماری بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سمجھ لیا جاتا ہے۔ ہر شخص کے تجربات، حساسیت اور حالات مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کے ردِعمل کو سمجھنے کی کوشش کریں، لیکن ساتھ ہی اپنے الفاظ کی ذمہ داری بھی قبول کریں۔ اگر ہماری بات سے کسی کو دکھ پہنچا ہو تو فوراً یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری ختم نہیں کر دینی چاہیے کہ میری نیت ایسی نہیں تھی۔ کبھی وضاحت، کبھی معذرت اور کبھی اپنے رویّے میں تبدیلی تعلق کو سنبھالنے میں مدد دے سکتی ہے۔
معذرت کرنا انسان کو چھوٹا نہیں کرتا۔ یہ تسلیم کرنا کہ ہمارے کسی لفظ نے دوسرے کو تکلیف پہنچائی، اپنی ذات کا جائزہ لینے کی علامت ہے۔ اسی طرح دوسروں کی اچھی بات کی تعریف کرنے میں بھی بخل نہیں کرنا چاہیے۔ کسی کی محنت کو سراہنا، مایوس انسان کو امید دلانا، کسی پریشان شخص کی بات توجہ سے سننا اور کسی کی کامیابی پر خلوص سے مبارک باد دینا ایسے چھوٹے اعمال ہیں جن کے اثرات دیر تک باقی رہ سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہم ہر مسئلے کا حل جانتے ہوں۔ بعض اوقات کسی کو یہ احساس دلانا ہی کافی ہوتا ہے کہ اس کی بات سنی جا رہی ہے اور اس کے دکھ کو معمولی نہیں سمجھا جا رہا۔
ہم اپنی زندگی میں بہت سے کاموں کے نتائج دیکھنے کے لیے انتظار کرتے ہیں، مگر الفاظ کے نتائج پر کم غور کرتے ہیں۔ کسان زمین میں بیج ڈالتے ہوئے فصل کی امید رکھتا ہے، باغبان پودے کی نگہداشت کرتا ہے اور والدین بچوں کی تربیت کے لیے برسوں محنت کرتے ہیں۔ مگر گفتگو کے معاملے میں ہم اکثر یہ سوچے بغیر بول دیتے ہیں کہ ہمارے الفاظ کہاں جا کر ٹھہریں گے۔ کیا وہ کسی کے اندر حوصلہ پیدا کریں گے یا اسے اپنی ذات سے بدظن کر دیں گے؟ کیا وہ غلط فہمی دور کریں گے یا مزید الجھن پیدا کریں گے؟ کیا وہ دلوں کو قریب لائیں گے یا فاصلے بڑھائیں گے؟
شاید ہمیں ہر گفتگو سے پہلے طویل سوچ بچار کی ضرورت نہ ہو، لیکن اتنی سی احتیاط ضرور کرنی چاہیے کہ غصے میں کوئی ایسا لفظ نہ کہہ دیں جس کی
تلافی بعد میں مشکل ہو۔ بولنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے رک جانا، دوسرے کی بات مکمل سن لینا، اپنی آواز کے ساتھ اپنے لہجے پر بھی توجہ دینا اور اختلاف کے باوجود احترام قائم رکھنا ہماری روزمرہ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ یہ کوئی غیر معمولی کام نہیں، بلکہ ایک ایسی عادت ہے جسے مسلسل کوشش سے اپنایا جا سکتا ہے۔
لفظ صرف آواز نہیں ہوتے، وہ ہمارے خیالات، تربیت اور رویّوں کے ترجمان بھی ہوتے ہیں۔ ہم دوسروں کے دلوں میں کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں، اس کا فیصلہ ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں، مگر ہم کیا کہہ رہے ہیں اور کس انداز میں کہہ رہے ہیں، اس پر غور کرنا ہمارے اختیار میں ضرور ہے۔ ہم لفظ بول کر بھول جاتے ہیں، مگر ان کے اثرات کبھی کبھی عمر بھر باقی رہتے ہیں۔
کوشش کیجیے کہ بولتے وقت اچھے لفظوں کا انتخاب کریں، کیونکہ یہ وہ بیج ہیں جو دلوں کی آبیاری کرتے ہیں۔ اپنے لہجے میں نرمی، اپنی گفتگو میں خلوص اور اپنے الفاظ میں احترام پیدا کیجیے۔ کسی مایوس انسان کو امید دیجیے، کسی غم زدہ دل کو تسلی دیجیے اور کسی کی غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھیے۔ اگر کسی کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنے الفاظ سے اس کی مشکل میں اضافہ نہ کریں۔ اگر کسی کو راستہ نہیں دکھا سکتے تو اس کے حوصلے مت توڑیں۔ اگر کسی کی کامیابی میں شریک نہیں ہو سکتے تو اس کی خوشی کو طنز سے آلودہ نہ کریں۔
آئیے، نفرت اور بدگمانی کے بیج بونے کے بجائے اپنے لفظوں سے محبتوں کے گلستان آباد کریں۔ ہم نہیں جانتے کہ ہماری زبان سے نکلا ہوا ایک اچھا لفظ کسی کی زندگی میں کتنی روشنی بھر سکتا ہے۔ شاید ہمارا ایک جملہ کسی کو دوبارہ ہمت دے دے، کسی ٹوٹتے تعلق کو سنبھال لے یا کسی مایوس دل میں امید کی نئی کونپل اگا دے۔ لفظوں کے بیج بظاہر چھوٹے ہوتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کی فصل ہماری ذات سے نکل کر ہمارے گھروں، رشتوں اور پورے معاشرے تک پھیل سکتی ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اپنے حصے کی زمین میں کیا اگانا چاہتے ہیں، نفرت اور بدگمانی یا محبت، اعتماد اور امید؟