دھڑکتے دلوں کاعہد۔۔۔۔۔۔۔اتحادکی صدا

سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
تاریخ کی دہلیزپر،ایک لمحہ اختیارکاصدیوں پربھاری ہوتاہے۔کہیں ایسانہ ہوکہ کل کی نسلیں ہم سے سوال کریں کہ’’جب دنیاجلنے لگی،تم کہاں تھے؟‘‘
اے ملتِ اسلامیہ!جاگنے کاوقت آپہنچاہے،امتِ مصطفی کے نام ایک پکارہے،ایک چیخ ہے،ایک فریادہے،اک سوال ہے کہ جب کعبہ کی چھاؤں میں اذان گونجی تھی،توقیصرو کسریٰ کے ایوان لرزے تھے اورآج، انہی ایوانوں کے وارث پاکستان،ایران،ترکی،اور افغانستان غفلت کی دھندمیں گم،اپنی اپنی فصیلوں کے اندردشمنوں کے خنجرگنتے ہیں۔
اے خاکِ حجازکی خوشبوکے امینو!دشمن تمہاری سرزمین کوزرخیزنہیں،بلکہ بے حس دیکھناچاہتاہے۔مودی،نیتن یاہواورٹرمپ تین سائے،تین سامری،تین فتنے آج تمہارے دریا، تمہارے پہاڑ،تمہاری دانش،تمہاری غیرت،سب کچھ چھین لینے کی سازش میں مصروف ہیں۔
پاکستان کے ایٹمی اثاثے ان کی آنکھ کاکانٹاہیں۔ایران کاخوددارسائنسدان ان کے میزائلوں کانشانہ ہے۔ترکی کی خودمختارپالیسی ان کے مفادات کیلئے خطرہ ہے۔افغانستان کا جغرافیہ ان کی بندوق کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ون ورلڈآرڈر،صیہونی طاقت،اورسامراجی زنجیریں صرف ایک مقصد؟ایک ایساشیطانی خواب،جس میں نہ اذان ہو،نہ افطار،نہ آزادیِ فکر،نہ غیرتِ عمل۔۔۔۔۔۔۔صرف سودی نظام ۔
یادرکھو!اگرآج بھی ہم نے اخوتِ اسلامی کاپرچم بلندنہ کیاتوکل ہمارے مساجد ومدارس،ہمارے مدرسے ومزار،سب خاک کاحصہ بن جائیں گے۔وہ دن دورنہیں کہ حرم کی دیواریں بھی قرض کے عوض گروی رکھی جائیں گی،اورقبلہ اول کاسایہ،صرف تصویروں میں باقی رہ جائے گا۔
مسلمانو!اب وقت ہے کہ تم زبان،نسل،فرقہ،اورمسلک کے تمام پردے چاک کرکے ایک پرچم تلے جمع ہوجاؤ،وہ پرچم جوبدرکے میدان میں بلندہواتھا،وہ پرچم جس نے کربلا میں سرکٹواکربھی گرنے نہ دیا۔
آغازپاکستان،ایران،افغانستان اورترکی سے کرو۔یہ چارستون،اگرایک مرکزپرجمع ہوجائیں،توان سے ایک ایسی اسلامی شوری بن سکتی ہے جونہ صرف اپنی قوموں کادفاع کرسکتی ہے،بلکہ امتِ مسلمہ کے باقی ٹکڑوں کوبھی جوڑسکتی ہے۔چین اورروس،اس سازش سے آگاہ ہیں۔عرب دنیا،اگرچہ خوفزدہ ہے،لیکن اس کے دل میں بھی سچ کی دھڑکن باقی ہے۔ان کااعتمادتب بحال ہوگاجب انہیں دکھائی دے گاکہ کوئی اٹھاہے،کوئی بولاہے،کوئی آگے بڑھاہے۔
آؤ،ایک نئی صبح کی بنیادرکھو،ایک ایسی صبح جہاں نہ’’مسلم‘‘ایرانی ہونہ پاکستانی،نہ ترک،نہ افغانی ہو،بلکہ صرف امت محمدیﷺہو۔ کیاتمہیں وہ دن یادہے جب تم نے لبیک اللہم لبیک کہاتھا؟آج وقت ہے کہ اس لبیک کوعمل میں ڈھالو،اپنے ایٹم سے نہیں،اپنے ایمان سے ڈرا۔اپنے تیل سے نہیں، اپنے اتحادسے طاقت دکھاؤ۔اپنے وطن کی نہیں،امت کی سرحدیں بچاؤ۔
خداکی قسم!اگرتم نے اخلاص سے قدم اٹھایا،توفرشتے تمہاری صفوں میں اتریں گے،آسمان تمہارے نعرے سن لے گا،اورزمین تمہاری غیرت سے جگمگااٹھے گی۔پاکستان،ایران، افغانستان اورترکی،تم ہی ہووہ چارچراغ،جن سے پھرسے روشنی ممکن ہے۔اٹھو!کیونکہ اب بھی وقت ہے،قبل اس کے کہ تاریخ تمہارے ماتھے پرغلامی کاداغ ثبت کرے۔غورسے سنو،امتِ مسلمہ کے بکھرے ستاروں کوایک کہکشاں بنانے کی صداگونج رہی ہے۔اب وقت ہے کہ ہم دشمن کے ہنستے چہروں کے پیچھے چھپی سازشوں کوپہچانیں۔
اے وہ مسلمانوجن کے اجدادنے اندلس کے ساحلوں پراذانیں بلند کیں،اے وہ وارثانِ اسلام!جن کی تلوارنے قیصروکسریٰ کے تاج روند ڈالے،آج تم کہاں ہو؟کہاں چھپ گئے،وہ لہوجواحداورصفین میں بہے؟تمہیں نیند کیسے آتی ہے جب غزہ کی بیٹیاں دوپٹے کے بغیردفن ہوتی ہیں؟تم کیسے خاموش ہوجب کشمیری بچے ماں کے آغوش میں لاش بن جاتے ہیں؟
دشمن نے تمہیں قومیت کے رنگوں میں الجھاکردین کے تاج سے محروم کیا۔تمہیں شیعہ وسنی،فارسی وعربی،ترک وافغان کے خانوں میں بانٹ کرتمہاری’’امت‘‘کوخاک کردیا۔آج دشمن کے ہاتھ میں میڈیاہے،معیشت ہے،اسلحہ ہے،اورتمہارے ہاتھ میں صرف بے حسی، انتشار،اورباہمی نفرت۔مودی،نیتن یاہواوران کے سرپرست سامراجی ایوانیہ وہ شیاطین ہیں جوخلافتِ عثمانیہ کے ملبے پرجشن مناتے آئے،اوراب نئی صدی میں پاکستان،افغانستان،ایران اورترکی کی قوت کومٹی میں ملانے کی تدبیریں کررہے ہیں۔پاکستان کاقصوریہ ہے کہ وہ ایٹمی طاقت ہے۔افغانستان کی خطایہ ہے کہ وہ غیرت کاآخری قلعہ ہے۔ایران کاجرم یہ ہے کہ وہ جھکتا نہیں۔ترکی کاگناہ یہ ہے کہ وہ خلافت کاوارث ہے۔ انہیں علم ہے کہ اگریہ چارقوتیں ایک ہوگئیں،توان کے ون ورلڈآرڈرکی بنیادیں لرز جائیں گی۔
کیاتمہیں معلوم ہے؟اب’’تلوار‘‘میزائل کی شکل میں نہیں،اتحادکی حکمت میں ہے۔اب جنگ’’بارود‘‘سے نہیں،بیانیے سے جیتی جاتی ہے۔ اوربیانیہ وہی غالب آتاہے جس میں حق،اخلاق،شجاعت،اوربصیرت ہو۔اگرہم صرف نمازکی صف میں کندھے سے کندھاملاسکتے ہیں، توسیاست،معیشت،سائنس،ٹیکنالوجی،سفارت،اورعسکری حکمت میں کیوں نہیں؟امت کے سرپرایک قیادت کیوں نہیں؟او آئی سی کے اجلاسوں سے آگے کب قدم بڑھے گا؟
پاکستان کوقرضوں کے شکنجے میں کساجارہاہے،اورافغانستان کے آسمان پرڈرون اب بھی منڈلارہے ہیں۔آج ایران کے بازاروں پر پابندیاں ہیں،ترکی کی معیشت کودبوچاجا رہا ہے ،یہ سب ایک سازش ہے کہ کہیں یہ قومیں پھرسے صلاح الدین پیدانہ کرلیں،کہیں پھر سے خالدبن ولیدکی روح نہ جاگ اٹھے،کہیں پھرسے علامہ اقبال،محمدعلی جناح،امام خمینی ، ارطغرل،امیرتیمور،احمدشاہ ابدالی جیسے رہنمانہ ابھرآئیں۔
دنیاکی معیشت تمہارے تیل پر،دنیاکی سائنس تمہارے دماغوں پر،دنیاکاجمال تمہاری ثقافت پر،اوردنیاکامستقبل تمہاری جوان نسل پرکھڑا ہے اورتم ہوکہ فرقوں،جماعتوں، قومیتوں میں بٹے ہوئے ہو؟
اے نوجوانواٹھو!سوشل میڈیاپرایک دوسرے کوگرانے کی بجائے دشمن کے پروپیگنڈے کوبے نقاب کرو۔
اے علماومفکرین!اب منبرسے صرف وعظ نہ دوامت کواتحاداورمحبت کامنشوردو۔
اے سیاستدانو!اب صرف اپنے ملک کاجھنڈانہ اٹھاامت کی چادرسنوارو۔
دنیاکی طاقتیں اپنے مفادکیلئے بلاک بناتی ہیں،توکیاامت محمدیہﷺایک مقصدالہی کیلئے بلاک نہیں بناسکتی؟اگریورپی یونین،نیٹو،ورلڈ بینک،جی7،جی20وجودمیں آسکتے ہیں تو’’اتحادامت بلاک‘‘کیوں نہیں؟ایک مشترکہ دفاع،مشترکہ کرنسی،مشترکہ عدالت،مشترکہ بیانیہ کیوں نہیں؟کیوں نہ ہم ایسامعاہدہ کریں جومکہ،اسلام آباد،کابل،قم اورانقرہ کے میناروں کوایک آوازمیں باندھ دے؟کیوں نہ ہم ایسانظام بنائیں جس میں نہ سنی ہو،نہ شیعہ صرف’’عبداللہ‘‘ہو؟
یادرکھو اللہ نے وعدہ کیاہے کہ اگرتم میری مددکروگے،میں تمہاری مددکروں گا۔توآؤ،اپنی صفوں کودرست کریں،اپنے دلوں کوجوڑیں، اورایک نئے سورج کااستقبال کریں۔ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی،اورنسلِ نوہمیں لعنتوں کے طوق میں یادکرے گی۔
آئیے!آج ہم ایک عہد اتحادامت پرجمع ہوجائیں جہاں ہم اپنے رب کوحاضرناظرجان کرامتِ محمدیہﷺکے مابین اتحادواتفاق کے ابدی میثاق کارسمی اعلان کریں کہ ہم، پاکستان ،ایران،افغانستان،اورترکی کے مسلماندین،غیرت،علم،اورعدل کیلئے ایک ساتھ کھڑے ہونے کاعہدکرتے ہیں۔۔۔۔۔۔
ہم،خطہ عالمِ اسلامیہ پاکستان، افغانستان،ایران،ترکی کے وہ فرزندانِ ملتِ اسلامیہ،جولاالہ الااللہ محمدرسول اللہﷺکے کلمے پریک جان،یک دل اوریک عہد ہیں ،آج کے دن اس تاریخ سازلمحے میں عہدِاتحادِامت کااعلان کرتے ہیں،ایک ایساعہدجوخون سے زیادہ گہرا، عقیدے سے زیادہ مقدس،اورتاریخ سے زیادہ پائندہ ہے۔
ہم سب مل کریہ عہدکرتے ہیں کہ:ہم وحدتِ امت کیلئے فرقہ، قوم،زبان،نسل یاجغرافیہ کی بنیادپرامت کے اندرتفرقے کی ہرشکل کو مستردکرتے ہیں۔ہم صرف امتِ واحدہ کے امین وپاسبان ہیں۔
دفاعِ مسلمین کیلئے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت،ایران کی علمی پیش رفت،ترکی کی عسکری وسیاسی بیداری اوافغانستان کی غیرتِ دینی ان سب کوامت کی مشترکہ ڈھال تصورکیاجائے گا۔ان میں سے کسی ایک پرحملہ، امتِ مسلمہ کے قلب پرحملہ سمجھاجائے گا۔
چاروں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی کونسل،خارجہ پالیسی کامشاورتی پلیٹ فارم،اور اسلامی بلاک آف پاورکے سیاسی اتحاد کی بنیادرکھی جائے گی۔
معاشی وعلمی یکجہتی کیلئے مشترکہ کرنسی،تجارت،تعلیمی وظائف،علمی وتحقیقی اداروں کانیٹ ورک،اورمیڈیا بیانیے کا اتحاد قائم کیا جائے گاتاکہ امت کافکری قبلہ ایک ہو۔
قبلہ اول اورمظلومین عالم کیلئے فلسطین،کشمیر،یمن،شام،لیبیا،برمااوردنیابھرکے مظلوم مسلمانوں کے دفاع کواسلامی فرض قراردیا جائے گا۔ان کی حمایت،ہرمسلمان پرواجب اور ہرحکومت پرلازم ہوگی۔
ہم عہد کرتے ہیں کہ نہ ہماری زبانیں ایک دوسرے کی تحقیر کریں گی، نہ ہمارے منبر نفرت کا بیج بوئیں گے، نہ ہمارے حکمران دشمنوں کے در کے محتاج ہوں گے، نہ ہماری غیرت مغرب کی کرسیوں پر نیلام ہو گی۔
ہم عہدکرتے ہیں کہ امت کاغم ہماری اولین ترجیح،اس کی عزت ہمارااولین فخر،اوراس کادفاع ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہوگا۔
اے اللہ ہم تیرے وہ بندے ہیں جوتیرے دین کی سربلندی کیلئے یک جاہورہے ہیں۔ہماری صفوں میں اخلاص پیدافرما،ہمارے دلوں کوجوڑدے،ہمارے دشمنوں کوذلیل کردے ، اورہمیں وہ حوصلہ،وہ حکمت،اوروہ وحدت عطافرماجوفتح مکہ،یومِ بدراورصلح حدیبیہ میں ہمیں دکھائی گئی تھی۔
یہ عہدنہ کسی کانفرنس کارسمی اعلامیہ ہے،نہ کسی حکومت کی وقتی مصلحت،یہ امت کے زندہ دلوں کاخون میں ڈوباہواوعدہ ہے جو کربلاسے لے کرالقدس تک،اسلام آبادسے لیکر سری نگروجموں وکشمیرتک،غزہ سے لے کرکابل تک،اورمدینہ سے لے کرمشہدوقونیہ تک، ایک ہی صدابن کرگونجے گا:
اِنماالمؤمِنون اِخوۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے شک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔