دھڑکتے دلوں کاعہد۔۔۔۔۔۔۔اتحادکی صدا

سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
ہرعہدکی پیشانی پرکچھ سوال وقت کی آگ میں کندہ ہوتے ہیں،سوال جوصرف زخم نہیں ہوتے،سمت کاتقاضاہوتے ہیں۔جب قومیں خواب بھول بیٹھیں،جب ملتیں نقشِ پاکی بجائے زنجیروں کاتعاقب کرنے لگیں،اورجب دل ایمان کے بجائے قومیتوں میں تقسیم ہوجائیں،توتب ایک صدااٹھتی ہے جورگِ جاں میں لرزہ پیداکرتی ہے۔یہ تحریرایسی ہی ایک صداہے،تاریخ کے سینے میں گونجتی ہوئی،شعورِامت کوجھنجھوڑتی ہوئی۔یہ محض الفاظ کامجموعہ نہیں،بلکہ اس خواب کی تجدیدہے جوبدرکی خاک پرابھرکرمکہ کوجھکاگیا،جواندلس کے ساحلوں سے نکل کردجلہ وفرات میں بہا،جو قسطنطنیہ کی فصیلوں سے ٹکراکروقت کی کروٹ بدل گیا۔
یہ وہ بیانیہ ہے جوامتِ محمدیہﷺکومحض ماضی کے فخرمیں نہیں،مستقبل کی تعمیرمیں یکجادیکھناچاہتاہے۔یہ وہ دستک ہے جو دروازے پرنہیں،دلوں پردی جارہی ہے۔یہ وہ پکارہے جو ہراس فردکومخاطب کرتی ہے جواپنے سینے میں ایمان کی آخری چنگاری محسوس کرتاہے،خواہ وہ عالم ہویاعامی،نوجوان ہویابزرگ،مشرق میں ہویامغرب میں۔
یہ تحریر،یہ تمہیدایک اعلانِ عہدہے،ایساعہدجوکانفرنسوں کی رسمی قراردادوں سے نہیں،دلوں کی گہرائی سے نکلاہے۔ایساعہدجو’’امتِ واحدہ"‘‘کے اس خواب کوتعبیردیناچاہتاہے جسے صدیوں سے سازشوں،جنگوں اورتفرقوں کی دھول نے ڈھانپ رکھاہے۔
تاریخ کی بھری پری شاہراہ پرجب کبھی سلطنتیں لرزیں اورجمہوریتیں متزلزل ہوئیں،تویہ زوال اکثرنعرہ ہائے جمہوریت سے نہیں، بلکہ شمشیروسنان کی جھنکارسے ہوا۔آج جب بھارت میں انتخابات کاشوربلندہے،اورقوم پرستی کی آگ بھڑک رہی ہے،ایک اوربھیانک ارتعاش سنائی دے رہاہیوہی جسے ہم جنگ کاپیش خیمہ کہتے ہیں۔وزیراعظم نریندر مودی،جوسیاست کوتماشہ بنانے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں،اس بارنہ صرف ووٹ،بلکہ اقتدارکی خاطر،ایٹمی کھیل کو سڑک پرلانے کوآمادہ نظرآتے ہیں۔یادرہے،یہ کوئی روایتی سیاسی ہتھکنڈہ نہیں؛یہ تاریخ سے انحراف،اخلاقی انکار،اورکروڑوں جانوں کے مقدرسے ظالمانہ کھلواڑہے۔ بھارت اورپاکستاندونوں ایٹمی قوتیں،اور دونوں کے دامن میں ماضی کی تلخیاں۔اگریہ آتشیں کھیل واقعی بھڑک اٹھا،تواس کی تپش صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی،بلکہ تہذیب کی بنیادیں بھی اس میں جھلس جائیں گی۔
جب جمہوریت کاہجوم میدانِ جنگ میں تبدیل ہوجائے،اورووٹوں کاتماشاتوپوں کے دہانے سے سجادیاجائے،تویہ صرف سیاست کی تذلیل نہیں بلکہ انسانیت کی بربادی کاپیش خیمہ بن جاتاہے۔نریندرمودی کی زیرِقیادت بھارتیہ جنتا پارٹی آج جس راہ پرگامزن ہے،وہ نہ صرف جنوبی ایشیابلکہ عالمی امن کوایٹمی دھوئیں کی لپیٹ میں دھکیلنے کاعندیہ دے رہی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ فسطائیت جب سیاسی بحرانوں کاشکارہو،توقوم پرستی کے افیون سے عوام کومدہوش کرکے جنگ کانعرہ بلندکرتی ہے۔ہٹلرنے بھی یہی کیا،مسولینی نے بھی یہی راہ اپنائی،اوراب مودی بھی اسی آتش فشاں کے دہانے پرکھڑاغرارہاہے۔مگرفرق صرف یہ ہے کہ آج بھارت اورپاکستان،دونوں ایٹمی طاقتیں ہیںاوراس بارخون کی ہولی صرف خنجرسے نہیں،تابکاری شعلوں سے کھیلی جائے گی۔
جہاں توپ وتفنگ کی گرج سنائی دیتی ہے،وہاں ایک اورمحاذ خامشی سے قائم ہے جب پانی کامحاذجب دریاہتھیاربن جائیںتو قوموں کی بربادی کاآغازہوجاتاہے۔سندھ طاس معاہدہ،جوکبھی برصغیر کے عقل مندوں کاشاہکارسمجھاجاتاتھا،اب سیاسی خودغرضی کی بھینٹ چڑھتاجارہاہے۔مودی حکومت،جوداخلی ووٹ بینک کی ہوس میں اندھی ہوچکی ہے، پاکستان کے دریاں پرہاتھ ڈالنے کی تیاری میں ہے گویاکسی قوم کی سانسوں کوبندکردینامقصودہو۔یعنی ایٹمی سائے میں ناچتی خنجرکی نوک پرانتخابی مہم کاآغازہے۔
یہ خاموش جنگ بندوق سے نہیں،بلکہ بوندبوندخشک ہوتے کنوں،مرجھاتے کھیتوں اوربے رونق گاں کی صورت لڑی جارہی ہے۔ کیایہ ستم صرف پاکستان پرہے؟ہرگزنہیں،یہ وہ آگ ہے جواگربھڑکی،توپوراخطہ اس کی لپیٹ میں آئے گا۔
پاکستان،جوپہلے ہی معاشی،سیاسی اورماحولیاتی بحرانوں سے دوچارہے،اب بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کاسامناکررہاہے۔سندھ طاس معاہدہ،جوکبھی عالمی سفارت کاری کی دانشمندی کی علامت سمجھاجاتاتھا،آج مودی حکومت کی تنگ نظرقوم پرستی کی ضدکی نذرہوتاجارہاہے۔یہ محض نہروں کامسئلہ نہیں،یہ پاکستان کی شہ رگ پرہاتھ ڈالنے کی کوشش ہے۔پانی پریہ ایٹمی جنگخاموش بربادی کاایساآغازہے جودنیاکوتاریک کرسکتاہے۔کیاعالمی برادری نہیں جانتی کہ پانی سے زیادہ قیمتی اب کوئی وسیلہ نہیں؟کیااقوامِ متحدہ کے ایوان اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ وہ بھارت کے ہاتھوں خطے کوایک"ایٹمی واٹروار"کی طرف بڑھتادیکھ کربھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟
ادھرایک اورگٹھ جوڑتاریخ کے صفحات پرنئی سیاہی سے لکھاجارہاہے ،بھارت اوراسرائیل کاباہمی اتحاد۔ایک،مشرق وسطی میں ظلم کااستعارہ؛دوسرا،جنوبی ایشیامیں بالادستی کامتمنی ۔ غزہ میں بچوں کے لاشے گرتے ہیں،اورکشمیرمیں سناٹابولتاہے مگردونوں جگہ یکساں سوچ،یکساں ظلم،اوریکساں جوازسنائی دیتاہے: دہشتگردی کے خلاف جنگ۔اسرائیل نہ صرف اپنے اسلحے بلکہ اپنے نظریات کے ساتھ بھارت کے شانہ بشانہ کھڑاہے۔یہ صرف ہتھیاروں کی شراکت نہیں؛یہ اخلاقی زوال کااشتراک ہیایک ایسافکری محورجوآزادی کوجرم،اور ظلم کوحق سمجھتاہے۔گویاصہیونی سائے تلے دہلی،تل ابیب، واشنگٹن کی نئی شیطانی مثلث وجودمیں آچکی ہے۔عالمی ضمیرکہاں ہے؟اورمغرب؟وہ اقوام جوخودکوانصاف کاعلمبردار کہتی ہیںوہ کہاں ہیں؟جنہوں نے اقوام متحدہ کی چھت تلے قیامِ امن کے عہدباندھے تھے،آج وہ خامشی کی چادرتانے بیٹھے ہیں۔
برک کاوہ جملہ یادآتاہے:شرکی فتح کیلئے اتناہی کافی ہے کہ اچھے لوگ خاموش رہیں۔
آج وہی خامشی،پورے وقارکے ساتھ، مغرب کے ہونٹوں پرطاری ہے کیونکہ بھارت چین کے مقابلے میں مغرب کیلئے ایک تزویراتی مہرہ ہے،اوراسرائیل ان کادیرینہ اتحادی۔ لہذااخلاقی قدریں تجارتی مفادات کے نیچے دفن ہوچکی ہیں۔
ایران اورپاکستان،دونوں، اس وقت اسرائیلی جارحیت کی مخالفت میں نمایاں صفوں میں کھڑے ہیں۔اسرائیل جس طرح فلسطین کوخون میں نہلارہاہے،اوربھارت کے ساتھ عسکری اتحادقائم کرکے ہندوصیہونیت کاایک نیاباب رقم کررہاہے،وہ مسلم دنیاکوایک مشترکہ محاذ کی دعوت دے رہاہے یایوں کہیے،ایک تاریخی ذمہ داری سونپ رہاہے۔جب بھارت،اسرائیلی اسلحہ،اسرائیلی ٹیکنالوجی اوراسرائیلی ذہنیت کے ساتھ سرحدپرآکھڑاہوتاہے،تویہ محض دوہمسایہ ممالک کی چپقلش نہیں رہتی یہ ایک تہذیبی معرکہ بن جاتاہے،جہاں ایک طرف طاقت کاغرورہے اوردوسری طرف صبر،عقل،اوراصول۔
عالمی طاقتوں کی خاموشی،درحقیقت ایک متعین پالیسی ہے مشرق وسطیٰ میں تیل اوراسلحے کے سودے،اورجنوب ایشیامیں چین کو گھیرنے کی حکمت عملی،اخلاقیات کے ہراصول کو روندتے ہوئے آگے بڑھتی جارہی ہے۔یہ اقوامِ متحدہ نہیں،اقوامِ مفادات کادورہے اور عالمی طاقتیں اپنے مفادات کیلئے حق،سچ اورصداقت کاآئینہ دیکھنے سے قاصراوراندھی ہو چکی ہیں۔
یہ وہ دورہے جہاں اسرائیل کوغزہ پربمباری کے بعد’’اپنے دفاع کاحق‘‘دیاجاتاہے،مگرفلسطینیوں کے بچوں کی لاشوں پرنہ کوئی قرار دادپیش ہوتی ہے نہ تعزیت۔یہی رویہ اب پاکستان اورایران کے خلاف بھی اپنایاجارہاہے،یہ کوئی نئی بات یاتماشہ نہیں،اس سے قبل پچھلی چاردہائیوں سے افغانستان میں ظلم ودرندگی کاننگاناچ کرنے والی قوتیں کس قدر ذلیل ورسواہوکرنکلیں ہیں،اوراب بھی ان کایہی حال ہوگاگویامظلوم کاجرم صرف یہ ہے کہ وہ مزاحمت کرتاہے۔
ایران،شہیدرجائی کی بندرگاہ کی راکھ سے بصیرت کی قندیلیں روشن کررہاہے۔پاکستان،غزہ اورکشمیرکے زخموں کوسینے میں چھپائے،غیرت وحمیت کی تلوارتھامے کھڑاہے۔ان دونوں ممالک کے درمیان اتحادکی جوپکارآج سنائی دے رہی ہے،وہ وقت کی سب سے اہم صدائیں ہیں۔ایران،افغانستان اورپاکستان میں خاکسترمیں چمکتی روشنی سے انہیں خوف آرہاہے،اسی لئے یہ ان تینوں ممالک کو آپس میں مل بیٹھ کرکسی بھی اتحادمیں رکاوٹ بن کراپنے مفادات کی تکمیل کرناچاہتے ہیں۔
ایران وپاکستان،اس وقت مزاحمت کے پرچم بردارہیں۔تاہم اس تاریکی میں بھی ایک چراغ روشن ہے ،تہران واسلام آبادکااتحاد۔ایران، جوصہیونی جارحیت کے خلاف برہنہ تلواربناکھڑاہے،اورپاکستان،جوآبی دہشتگردی کانشانہ بن رہاہے،آج مشترکہ دکھ،اورمشترکہ دشمن کے خلاف صف آراہیں۔ان کااتحادمفادکانہیں،ایمان کاہے۔یہ انکارِظلم کا عہدہے۔یہ کربلاکاورثہ ہے جہاں خون،خنجرسے شکست نہیں کھاتا،بلکہ تاریخ میں اپنامقام بناتاہے۔
وقت آچکاہے کہ ہم صرف مرثیے نہ لکھیں،ہم صرف ماتم نہ کریں،بلکہ ہم تاریخ کارخ بدلنے کیلئے دانش،تدبراوروحدت کے ہتھیاروں سے لیس ہوں۔ایک سوال،جوتاریخ پوچھے گی،کل جب مورخ قلم اٹھائے گا،وہ یہ سوال ضرورلکھے گا:جب دنیاایٹمی آگ کے دہانے پرتھی،توکیااہلِ دانش،اہلِ قلم،اہلِ اقتدارخاموش تماشائی بنے رہے؟
آج ایٹم کی دہلیزپرسیاست کارقص ہورہاہے جب مودی کی جمہوریت،تباہی کاانتخاب کرے تواس کولگام ڈالنے کیلئے اقوام عالم کی امن پسندقوتوں کواٹھناہوگا۔آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے۔ہمیں دشمن کی جارحیت کوصرف ردکرنے کی بجائے ایک فکری،سفارتی،اورتہذیبی محاذپرشکست دینی ہے۔ہمیں دکھاناہے کہ برصغیرکی جنگ نہ ہندوتواجیت سکتی ہے،نہ بم بلکہ صرف امن،عقل،اوراتحادہی اس خطے کی تقدیررقم کرسکتے ہیں۔
آج بھی وقت ہمارے ہاتھ سے مکمل طورپرنکل نہیں گیا۔ابھی مہلت باقی ہے کہ دنیاکی آوازیں یکجاہوجائیں،کہ صحافت،شاعری اور سفارت،مل کرجنگ کی آگ پرپانی ڈالیں۔
تاریخ صرف وہ واقعات یادنہیں رکھتی جوہوئے؛وہ خاموشیاں بھی یادرکھتی ہے،جنہوں نے ظلم کوجنم دیا۔آئیں،خاموشی توڑیںنہ نفرت سے،بلکہ شعورسے۔نہ جنگ سے،بلکہ وقار سے۔(جاری ہے)