امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو جارحیت روکنے کے انتباہ کے باوجود اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں حملے جاری رکھے ہیں، جن میں شہر صور (Tyre) کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
عرب میڈیا اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملے Tyre, Lebanon میں اس وقت کیے گئے جب مبینہ طور پر علاقے کے بعض حصوں کے لیے جبری انخلا کے احکامات بھی جاری کیے جا چکے تھے۔ ان حملوں میں کم از کم 8 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، اور ان حملوں کو خطے میں جاری کشیدگی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ بعض عرب میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں نے امریکی انتباہ کو عملاً نظر انداز کر دیا ہے۔دوسری جانب ایران نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی کارروائیاں، خصوصاً لبنان میں بمباری، اسی طرح جاری رہیں تو خطے میں ایک وسیع تر جنگ دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدہ آخری مراحل میں ہے اور جلد طے پا سکتا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق پیش رفت بھی متوقع ہے۔خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس کے اثرات کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔