لاہور میں فضائی آلودگی کی شدت برقرار، اے کیو آئی 251 ریکارڈ، شہر دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار

لاہور میں فضائی آلودگی کی شدت برقرار، اے کیو آئی 251 ریکارڈ، شہر دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار

لاہور میں فضائی آلودگی کی شدت برقرار ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 251 ریکارڈ ہونے کے بعد شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا۔

شہر کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی شرح تشویش ناک حد تک بلند ریکارڈ کی گئی۔ گلبرگ ٹو میں اے کیو آئی 302، ماڈل ٹاؤن میں 287، اقبال ٹاؤن میں 262 اور پیراگون سٹی میں 255 ریکارڈ کیا گیا۔اسی طرح برکی روڈ میں اے کیو آئی 251، چمن پارک میں 240، ڈی ایچ اے فیز فائیو میں 212، بیدیاں روڈ میں 200 جبکہ عسکری ٹین میں 165 ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی میں اضافے سے شہریوں کو سانس لینے میں دشواری اور آنکھوں میں جلن سمیت مختلف مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، بالخصوص بچے، بزرگ اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب لاہور میں موجودہ درجہ حرارت 24 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31 ڈگری جبکہ کم سے کم 19 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔

شہر میں ہوا میں نمی کا تناسب 65 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہواؤں کی رفتار 2 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں فی الحال بارش کا کوئی امکان نہیں، جس کے باعث فضائی آلودگی میں کمی کے امکانات محدود رہ سکتے ہیں۔فضائی آلودگی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ غیر ضروری طور پر کھلی فضا میں زیادہ وقت گزارنے سے گریز کریں، آلودگی زیادہ ہونے کی صورت میں باہر نکلتے وقت مناسب حفاظتی ماسک استعمال کریں اور گھروں کی کھڑکیاں بند رکھیں۔ سانس لینے میں دشواری یا دیگر علامات ظاہر ہونے پر طبی مشورہ حاصل کریں۔

شہری مہنگائی سے پریشان
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے باعث پہلے ہی گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ روزمرہ کھانے میں استعمال ہونے والی سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے اور سرکاری نرخنامے پر عمل درآمد نہ ہونے سے گھریلو بجٹ مزید متاثر ہو رہا ہے۔شہریوں کے مطابق اگر انتظامیہ کی جانب سے سبزیوں کی قیمتوں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے اور سرکاری نرخنامے پر مؤثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے تو صارفین کو غیر ضروری اضافی اخراجات سے بچایا جا سکتا ہے۔

انتظامیہ سے کارروائی کا مطالبہ
شہریوں نے متعلقہ حکام اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سبزی منڈیوں اور پرچون دکانوں پر سرکاری نرخنامے کی پابندی یقینی بنائی جائے۔ مقررہ قیمتوں سے زائد وصول کرنے والے دکانداروں کی جانچ پڑتال کی جائے اور خلاف ورزی ثابت ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف سرکاری نرخنامہ جاری کرنا کافی نہیں، بلکہ اس پر عمل درآمد کی نگرانی بھی ضروری ہے تاکہ عام صارفین کو مناسب قیمتوں پر اشیائے ضروریہ دستیاب ہو سکیں۔