چار کنسورشیمز نے قومی ایئر لائن کی نجکاری کے لیے اپنی اسٹیٹمنٹ جمع کروائیں، حکام وزارت نجکاری کا انکشاف

چار کنسورشیمز نے قومی ایئر لائن کی نجکاری کے لیے اپنی اسٹیٹمنٹ جمع کروائیں، حکام وزارت نجکاری کا انکشاف

قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس ڈاکٹر فاروق ستار کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں قومی ایئر لائن (پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز) کی نجکاری سے متعلق اہم امور زیر غور آئے۔

 اجلاس میں وزارت نجکاری کے حکام نے بتایا کہ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن، ایمریٹس، اور دیگر کنسورشیمز نے اپنی بڈز جمع کروائی ہیں، اور ان کمپنیوں کو ڈیٹا روم تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، کمپنیوں کے سائٹ وزٹ بھی کروائے جا رہے ہیں تاکہ وہ انتظامات کا معائنہ کر سکیں۔حکام کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ سال کے آخری سہ ماہی میں قومی ایئر لائن کی نجکاری کے لیے بولی کا عمل مکمل کر لیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کے اعتراضات کا جائزہ لیا جائے گا اور بولی کا عمل لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس موقع پر، ڈاکٹر فاروق ستار نے وزارت نجکاری سے مطالبہ کیا کہ وہ حلف دے کہ وہ کسی ایک کمپنی کی طرف داری نہیں کرے گی، تاکہ عمل میں شفافیت برقرار رہے۔ حکام نے جواب دیا کہ وہ کسی بھی قسم کی طرف داری کا تصور بھی نہیں کرتے اور پورے عمل میں مکمل ایمانداری اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا جائے گا، کیونکہ کسی بھی قسم کی طرف داری نجکاری کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے اور اس سے پورے عمل پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔

اس اجلاس میں نجکاری کے عمل کی شفافیت اور بروقت انجام دہی پر زور دیا گیا، تاکہ قومی ایئر لائن کی فروخت کا عمل منصفانہ اور بغیر کسی مفادات کے مکمل ہو سکے۔