ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین Ebrahim Azizi نے امریکا کے ساتھ جاری اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو واشنگٹن کی نیت اور سنجیدگی پر اعتماد نہیں رہا۔
امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کو یہ تاثر نہیں ملتا کہ امریکی حکومت اور صدر مذاکرات کو دیانت داری اور مکمل سنجیدگی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر امریکا کا موجودہ طرزِ عمل برقرار رہا تو نہ صرف امن مذاکرات کی کامیابی مشکل ہو جائے گی بلکہ انہیں جاری رکھنا بھی دشوار ہو سکتا ہے۔ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران مذاکرات کو کسی محدود دو طرفہ عمل کے بجائے ایک وسیع تر سیاسی اور سفارتی کشمکش کا حصہ سمجھتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق اگر امریکا بین الاقوامی اصولوں اور سفارتی ضوابط کے مطابق سنجیدہ رویہ اختیار کرے تو ایران بات چیت کے عمل کی مخالفت نہیں کرتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب تک کسی ایسے واضح اور قابلِ عمل فریم ورک کو نہیں دیکھ سکا جس کے ذریعے کسی حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ ان کے مطابق منجمد ایرانی اثاثوں کا مسئلہ بھی اعتماد کی کمی کی ایک بڑی وجہ ہے اور اسی پر پیش رفت نہ ہونے سے مذاکراتی عمل متاثر ہو رہا ہے۔
ایرانی رہنما نے واضح کیا کہ اس وقت یورینیم افزودگی یا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے اور یہ معاملات موجودہ ایجنڈے کا حصہ بھی نہیں ہیں۔امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی پیش رفت کا انحصار امریکا کے عملی رویے پر ہے۔ اگر وہی موجودہ پالیسی جاری رہی تو معاہدے کے امکانات مزید کمزور ہو جائیں گے، کیونکہ اعتماد کے بغیر مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران کی شرائط پوری کی جائیں، اقتصادی مسائل میں پیش رفت ہو اور علاقائی تنازعات خصوصاً لبنان کے حوالے سے عملی اقدامات سامنے آئیں تو بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے۔ بصورت دیگر ایران اپنے مؤقف اور علاقائی اتحادیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
ابراہیم عزیزی نے آخر میں زور دیا کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں خطے کے معاملات، بالخصوص لبنان، بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور تہران ان معاملات پر اپنے مؤقف میں نرمی کا ارادہ نہیں رکھتا۔