تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے طے پانے والے معاہدے کو ایک “تاریخی دستاویز” قرار دیتے ہوئے اس کا باضابطہ خیرمقدم کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ یہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک طاقتور ایران امن کو ترجیح دیتا ہے، اور امن ہمیشہ باہمی احترام کے اصولوں کے تحت ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور نئی سفارتی راہ ہموار کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ایرانی صدر نے معاہدے کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں ان کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے دستخط بھی موجود ہیں۔رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان نے بطور ثالث اس معاہدے کی توثیق کی ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کی مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ اس اہم پیش رفت کو ممکن بنانے میں پاکستان کے اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششیں انتہائی اہم رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ سفارتی کامیابی خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے۔معاہدے کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے، جبکہ اسے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔