ورلڈ کپ 2026 سے قبل ایک اہم پیشرفت میں صومالیہ سے تعلق رکھنے والے معروف ریفری عمر عبدالقادر آرتان کو مبینہ ویزا اور امیگریشن مسئلے کے باعث ٹورنامنٹ کے آفیشلز پینل سے باہر کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق عمر آرتان، جو گزشتہ سال افریقی فٹبال میں شاندار کارکردگی کے باعث نمایاں ہوئے اور کنفیڈریشن آف افریقن فٹبال کی جانب سے سال کے بہترین مرد ریفری قرار دیے گئے تھے، امریکا پہنچنے کے بعد میامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام کے سامنے پیش ہوئے، جہاں انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔رپورٹس کے مطابق انہیں واپس بھیج دیا گیا اور اس وقت وہ ترکی میں موجود ہیں۔ امریکی حکام کی جانب سے ان کے داخلے سے انکار کی کوئی باضابطہ وجہ سامنے نہیں آئی۔
ویزا پالیسی اور سفری پابندیوں کا اثر
مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے مطابق صومالیہ ان ممالک میں شامل ہے جو امریکی سفری پابندیوں یا سخت امیگریشن پالیسیوں کے دائرے میں آ سکتے ہیں، خاص طور پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں نافذ کی گئی بعض سفری پابندیوں کے حوالے سے اس ملک کا نام مختلف فہرستوں میں شامل رہا ہے۔
فیفا کا ردعمل
عالمی فٹبال تنظیم FIFA کے مطابق میزبان ملک کو ویزا جاری کرنے اور داخلے کی اجازت دینے کا حتمی اختیار حاصل ہوتا ہے۔ ادارے نے امریکی حکام سے رابطے کے بعد تصدیق کی ہے کہ عمر آرتان آئندہ ورلڈ کپ 2026 میں ریفری کے فرائض انجام نہیں دے سکیں گے۔
سفارتی اور سرکاری ردعمل
صومالی وزارتِ نوجوانان و کھیل کے ایک مشیر کے مطابق عمر آرتان تمام ضروری سفری دستاویزات کے باوجود امریکا میں داخل نہ ہو سکے۔ ان کے مطابق معاملے کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اسی طرح صومالی سفارت خانے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ریفری کے لیے سفری مشکلات کم کرنے کی غرض سے خصوصی سفارتی پاسپورٹ بھی جاری کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود انہیں داخلے کی اجازت نہیں ملی۔
فٹبال حکام کی کارروائی
صومالی فٹبال فیڈریشن نے اس معاملے پر وضاحت کے لیے فیفا سے فوری رابطہ کیا ہے، جبکہ توقع ہے کہ آئندہ دنوں میں آفیشلز پینل میں ان کی جگہ متبادل ریفری کا اعلان کیا جائے گا۔
کیریئر کا پس منظر
عمر آرتان 2018 سے فیفا کے منظور شدہ ریفری ہیں اور افریقہ کپ آف نیشنز سمیت متعدد بین الاقوامی مقابلوں میں اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں افریقی فٹبال میں ابھرتے ہوئے بہترین ریفریز میں شمار کیا جاتا ہے۔