بھارتی ریاست پنجاب اور ہریانہ میں کسانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، اور کسان اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
حالیہ کارروائیوں میں پنجاب پولیس نے کسان رہنماؤں جگجیت سنگھ دلیوال، سروان سنگھ سمیت دیگر کئی مظاہرین کو گرفتار کیا۔ کسان رہنما چندی گڑھ میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد واپس جا رہے تھے، لیکن موہالی کے قریب انہیں حراست میں لے لیا گیا۔دوسری جانب، کھنوری بارڈر پر کسانوں کے احتجاجی کیمپ کو بلڈوز کر دیا گیا اور پولیس نے وہاں سے متعدد کسانوں کو زبردستی بے دخل کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، پولیس نے کسانوں کو بسوں میں دھکیل دیا، ان کی پگڑیاں اچھالیں، اور ایمبولینس میں موجود کسان رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ بھارتیہ کسان یونین کے رہنما کلونت سنگھ نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے بزرگ کسانوں کو احتجاج کرنے کا موقع نہیں دیا اور انہیں اپنے ٹریکٹر اور سامان وہیں چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔
یہ کسان دھرنا جو فروری 2024 میں شروع ہوا تھا، اب ایک بڑی مزاحمتی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک اپنی تحریک جاری رکھیں گے اور بھارتی حکومت کے جبر کے خلاف یہ تحریک ایک طاقتور مزاحمت بن چکی ہے۔ پنجاب حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود کسانوں کی بے دخلی کا عمل جاری ہے، اور مظاہرین نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے لڑتے رہیں گے۔