بنگلادیشی وکٹ کیپر بلے باز لٹن داس نے پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے حوالے سے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ٹیسٹ سیریز کے دوران کچھ مواقع پر کھیل کے اختتام پر مصافحے سے متعلق صورتحال معمول کے مطابق نہیں رہی۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلی جانے والی حالیہ ٹیسٹ سیریز کے دوران میدان میں تلخ جملوں کے تبادلے اور گرما گرمی کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک موقع پر لٹن داس نے رضوان پر کھیل کی رفتار سست کرنے اور وقت ضائع کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔اپنے تازہ انٹرویو میں لٹن داس نے کہا کہ کرکٹ جیسے کھیل میں میدان کے اندر جذباتی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، تاہم میچ کے اختتام پر روایتی طور پر کھلاڑیوں کا مصافحہ کھیل کی اسپرٹ کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق اس سیریز میں بعض مواقع پر یہ روایت مکمل طور پر نظر نہیں آئی۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بنگلادیشی ٹیم کے بیشتر کھلاڑیوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ معمول کے مطابق ہاتھ ملایا، تاہم ان کے مطابق بعض انفرادی رویے اس روایت کے مطابق نہیں تھے۔
دوسری جانب کرکٹ ماہرین کے مطابق پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان اس سیریز میں مسابقتی جذبہ کافی زیادہ تھا، جس کے باعث میدان میں کئی مواقع پر تلخی اور دباؤ کی صورتحال بھی دیکھنے میں آئی۔واضح رہے کہ ابتدائی ٹیسٹ میچ کے دوران دونوں کھلاڑیوں کے درمیان اس وقت تلخ کلامی ہوئی تھی جب سست اوور ریٹ اور وقت کے استعمال پر اعتراضات سامنے آئے تھے۔اس معاملے پر تاحال پاکستان کرکٹ بورڈ یا متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔