چوری کی اقسام اور معاشرتی منافقت کا تاریخی و علمی جائزہ

احمدخان اچکزئی 
محترم قارئین۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ انسانی تہذیب و تمدن کو اتنا نقصان بظاہر نظر آنے والے مجرموں نے نہیں پہنچایا، اس سے کہیں زیادہ نقصان ان مقتدر طبقات نے پہنچایا ہے جنہوں نے قانون، طاقت، اقتدار اور عقیدت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ معاشرے میں جرم اور مجرم کی یہ تقسیم محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی سماج کے اس بنیادی ڈھانچے کا مرثیہ ہے جہاں جرم کی نوعیت اور حجم بدلنے سے مجرم کا سماجی مقام اور مرتبہ بدل جاتا ہے۔ اگر ہم تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عام اور معمولی چور ہمیشہ سے مظلوم، بے بس اور قانون کی گرفت میں رہا ہے، جبکہ بڑے چوروں کو ہمیشہ تخت و تاج، شاہی محلات اور مقتدر تقدس کا تحفظ حاصل رہا ہے۔دنیا میں چوروں کی پہلی قسم معمولی چوروں کی ہے؛ یہ وہ لٹیرے ہیں جو کسی فرد سے اس کی ذاتی اور مادی اشیاء￿  جیسے جیب سے پیسے، ہاتھ کی گھڑی، سونے کے زیورات، موبائل فون اور گھر کا دیگر ساز و سامان چراتے ہیں۔ ان کی اس چوری کا بنیادی محرک اکثر اپنے پیٹ کی آگ بجھانا اور بقاء￿  کی جنگ لڑنا ہوتا ہے۔ اگر اس نوعیت کی چوری کا تاریخی اور معاشی پس منظر دیکھا جائے تو فرانسیسی انقلاب کے دور کا مشہور یورپی ناول "Les Misérables" (بدنصیب) یاد آتا ہے، جہاں کا مرکزی کردار محض ایک روٹی کا ٹکڑا چوری کرنے پر سالہا سال قیدِ بامشقت کاٹتا ہے۔ یونانی فلسفی ارسطو نے بھی کہا تھا کہ "غربت جرائم کی ماں ہے"۔ ایک عام چور معاشی ناہمواری اور نظام کی ناانصافی کا شکار ہو کر مادی اشیاء￿  چراتا ہے، مگر اس کی چوری کا دائرہ اثر صرف ایک فرد، دکان یا ایک گھر تک محدود ہوتا ہے۔ وہ کبھی کسی کی سوچ، کسی کا مستقبل، آنے والی نسلوں کے خواب یا کسی پوری قوم کی تقدیر داؤ پر نہیں لگا سکتا۔اس کے برعکس، لٹیروں کی دوسری قسم سیاسی چوروں کی ہے جو ایک ہولناک اور بھیانک سچائی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ وہ مقتدر لٹیرے ہیں جو عوام کے مستقبل کی امیدیں، ان کے خواب، نظریات، طرزِ زندگی، بنیادی حقوق، تعلیم و تربیت، اقتدار و اختیار، قومی وقار، عزتِ نفس اور مجموعی ملی و ملکی پانجی (قومی اثاثے) چوری کرتے ہیں، اور پورے معاشرے کو دائمی اندھیروں اور بدقسمتی کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ سیاسی چوروں کی یہ جامع تعریف عالمی تاریخ کے بڑے بڑے آمروں، جابر سلاطین اور کرپٹ جمہوریت پسندوں پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے۔نوآبادیاتی دور میں برطانوی ایسٹ انڈیاء￿  کمپنی نے برصغیر پاک و ہند کی جو مادی، معاشی اور ذہنی لوٹ مار کی، وہ سیاسی چوری کی بدترین تاریخی مثال ہے۔ ایک دور میں برصغیر دنیا کی کل پیداوار کا 25 فیصد پیدا کرتا تھا، لیکن جب سیاسی لٹیروں نے یہاں کے وسائل، نظامِ تعلیم، خودداری اور اقتدار پر ناجائز قبضہ کیا تو اس پورے خطے کو افلاس اور غلامی کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ اسی طرح نازی جرمنی میں ہٹلر نے عوام کی سوچ، آزادی اور حقوق کو چوری کر کے انہیں تباہی کی جنگ میں جھونک دیا۔ یہ سیاسی چور عوام کو روٹی کے ایک ایک نوالے کا محتاج بنا کر ان سے احتجاج اور سوچنے کی بنیادی صلاحیت تک چھین لیتے ہیں۔لٹیروں کی تیسری اور سب سے خطرناک ترین قسم مذ?بی چوروں کی ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جو انسان سے اس 
کی یہ خوبصورت اور شاداب دنیا، اس کی قوتِ نافذہ، فکر و تدبر کی صلاحیت، علم و دانش، عقلِ سلیم، خوشی و شادمانی، ذہنی سلامتی اور ارتقائی و روحانی اثاثے چوری کر لیتے ہیں۔ اس بدترین چوری کے بدل میں وہ عوام پر فریب، وہم اور ذہنی غلامی کا سودا انتہائی مہنگے داموں بیچتے ہیں۔ وہ خدا، دین، جنت، دوزخ، توہمات، فکری تاریکی، جہالت، غم و اندوہ اور نفسیاتی پریشانیوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ یہ طبقہ عوامی سادگی اور عقیدت کے بلبوتے پر ہر چیز مفت میں ہڑپ کرتا ہے، سماج سے جبری ٹیکس اور نذرانے وصول کرتا ہے، اور انسانوں کو جہالت، بھوک، کلمس و افلاس اور عظیم بدبختی کے غار میں قید رکھتا ہے۔ قرونِ وسطیٰ کے یورپ کی تاریخ اس مذہبی چوری کی سب سے بڑی گواہ ہے۔ وہاں کے عیسائی پادریوں نے مغفرت کے پروانے بیچ کر غریب عوام کو لوٹا اور انہیں بتایا کہ دنیا فانی اور گناہ کی جگہ ہے، لہٰذا زمین پر خوشیاں منانا جرم ہے، اور نجات کا راستہ صرف چرچ کی حاکمیت میں ہے۔ انہوں نے گیلیلیو اور برونو جیسے سائنسدانوں کو صرف اس لیے سزا دی کیونکہ وہ علم، عقل اور کائناتی سچائی کی بات کرتے تھے۔ جب بھی کوئی مقتدر طبقہ الہامی تصورات کو اپنی ذاتی جاگیر بنا لیتا ہے، تو وہ انسان سے اس کی سب سے بڑی دولت یعنی عقل اور ذہنی آزادی چھین کر اسے خوف اور وہم کے اندھیروں میں قید کر دیتا ہے۔انسانی سماج اور نفسیات کا سب سے بڑا تضاد اور المیہ یہ ہے کہ معمولی چور کا انتخاب خود عوام نہیں کرتے (وہ رات کے اندھیرے میں چوری چھپے آتا ہے)، لیکن دوسری طرف یہ عوام خود ان سیاسی اور مذہبی چوروں اور ان کے مکاتبِ فکر کا انتخاب کرتے ہیں۔ عوام ان مقتدر لٹیروں کے سامنے نہ صرف سرِ تسلیم خم کرتے ہیں بلکہ ان کو اپنی عقیدتوں اور احترام کا مرکز بنا لیتے ہیں۔ یہ رویہ نفسیات میں "اسٹاک ہوم سنڈروم" کی ایک کلاسک مثال ہے، جہاں مظلوم رفتہ رفتہ اپنے ہی ظالم اور لٹیرے سے محبت کرنے لگتا ہے۔ عام چور کو چوری کے لیے آپ کی اجازت درکار نہیں ہوتی، لیکن سیاسی اور مذہبی چوروں کو عوام خود اپنے ووٹوں، چندوں، نعروں اور اندھی تقلید کے ذریعے مسندِ اقتدار اور منبرِ تقدس پر بٹھاتے ہیں۔ انسان اس لٹیرے کے سامنے سر جھکاتا ہے جو اس کی روح، اس کے ملک اور اس کی آنے والی نسلوں کا مستقبل لوٹ رہا ہوتا ہے۔قانون کے دہرے معیار پر اگر نظر دوڑائی جائے تو یہ تضاد مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ معمولی چور سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہوتا ہے، اس پر تشدد کیا جاتا ہے، اسے وحشیانہ طریقے سے مارا پیٹا جاتا ہے، عبرت کا نشانہ بنا کر قید خانے کی (تاریک سلاخوں) کے پیچھے پھینک دیا جاتا ہے، اور بعض قوانین کے تحت اس کے ہاتھ پیر تک کاٹ دیے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، سیاسی اور مذہبی چور ہمیشہ ریاستی قانون اور حکومتی چھتری کے تحفظ میں رہتے ہیں۔ ان کے جرائم، کرپشن اور فکری بدعنوانیوں کے بدل میں انہیں معاشرے میں مزید اعلیٰ نام، عزت، مرتبہ، منصب اور عالی شان مقام دیا جاتا ہے۔ وہ مسلسل ظلم کرتے ہیں، طاقت کا ننگا ناچ نچاتے ہیں، اور عوام سے جو کچھ چاہتے ہیں چھین لیتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ عوام یہ سب کچھ انتہائی احترام، عاجزی اور جھکے ہوئے سر کے ساتھ ان کے حوالے کرتے ہیں اور ان کی اس حاکمیت پر فخر کرتے ہیں، جو کہ کسی بھی قوم کے فکری زوال اور اخلاقی دیوالیہ پن کی آخری حد ہے۔ یہی وہ قانون کی تذلیل ہے جس پر کارل مارکس اور والٹیئر جیسے مفکرین نے کھل کر لکھا۔ والٹیئر نے درست کہا تھا کہ "قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں چھوٹی مکھیاں تو پھنس جاتی ہیں لیکن بڑے مچھڑ اور بھڑ اسے پھاڑ کر نکل جاتے ہیں"۔ تاریخ ہمیشہ غریب چور کے لیے جلاد بنی، جبکہ اربوں کی قومی دولت لوٹنے والے اور انسانیت کا استحصال کرنے والے اشرافیہ چور ہمیشہ پروٹوکول، سیکیورٹی اور عالی شان محلات میں محفوظ رہے۔