بارش ، چھتیں گرنے سے5لہولہان

لاہور، ملتان، سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ بہاولپور اور لیہ میں بادل برس پڑے، بجلی گھنٹوں بند 
لاہور( کرائم رپورٹر )ملک بھر میں مون سون کا ہیوی سپیل جاری ہے، لاہور، ملتان، سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ بہاولپور اور لیہ میں بادل برس پڑے۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کے باعث تین گھروں کی خستہ حال چھتیں گرنے سے ملبے تلے دب کر ایک خاتون سمیت 5 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔تمام زخمیوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق چوہنگ کے علاقے شاہکام چوک جلیانہ گاؤں میں ایک گھر کی لکڑی کے بالوں اور مٹی سے بنی جھت زمین بوس ہو گئی۔جس سے ملبے تلے دب کر 47 سالہ خاتون سائرہ شہزاد شدید زخمی ہو گئی ہے۔ریسکیو ٹیم نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے زخمی خاتون کو ملبے تلے سے نکال کر طبی امداد کے لئیانڈس ہسپتال جوبلی ٹاؤن منتقل کر دیا ہے۔قطار بند روڈ پر ایک گھر کی بوسیدہ چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر 3 افراد شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر تینوں زخمیوں کو ملبے تلے سے نکال کر ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ٹھوکر کے علاقے گوپیراہ ٹھوکر گاؤں میں ایک گھر کی چھت گر گئی۔ گلبرگ، کلمہ چوک ، مغل پورہ ، گڑھی شا ہو، لکشمی چوک ، فیروز پور روڈ، جوہر ٹاؤن اور علامہ اقبال ٹاؤن کے علاقوں میں بادل جم کر برسے، نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا،سب سے زیادہ بارش 53ملی میٹر نشتر ٹاؤن میں ریکارڈ کی گئی، لیسکو کے 60 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے ، ٹرانسفارمر خراب ہونے اور دیگر تکنیکی خرابیوں کے باعث متعدد علاقوں میں بجلی گھنٹوں بند رہنے سے شہریوں کوپریشانی کاسامنارہا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش ہوئی ، ہری پور میں طوفانی بارش کے باعث مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، متعدد سڑکیں آمدورفت کیلئے بند کردی گئیں، کراچی میں رم جھم سے موسم خوشگوار ہوگیا۔قلات میں نشیبی علاقے ڈوب گئے، کوہ سلیمان سے نکلنے والی 7 برساتی ندیوں میں طغیانی، شکر گڑھ کے نالہ بئیں میں درمیانے درجے کا سیلاب آگیا، علاقے میں پھنسے چرواہوں اور مویشیوں کو نکال لیا گیا۔پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بلوچستان میں حالیہ بارشوں سے حادثات میں خواتین اور بچوں سمیت 10 افراد جان سے گئے۔ ادھر دریا ئے سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 87 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 82 ہزار 100 کیوسک، جہلم میں منگلاکے مقام پر پانی کی آمد 22 ہزار کیوسک اور اخراج8 ہزار کیوسک، چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد71 ہزار 300 کیوسک اور اخراج44 ہزار 300 کیوسک، چشمہ میں پانی کی آمد3 لاکھ 64 ہزار کیوسک اوراخراج 3 لاکھ 45 ہزار 800 کیوسک رہا۔