ملک سے پولیو کے خاتمے کی قومی کاوشوں کے تحت دیامر اور خیبر پختونخوا کے تین اضلاع میں 14 جولائی سے 18 جولائی 2025 تک خصوصی پولیو مہم چلائی جائے گی۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (نیشنل ای او سی) کے مطابق یہ مہم دیامر، کوہستان اپر، کوہستان لوئر اور کولائی پالس جیسے حساس اور دشوار گزار اضلاع میں شروع کی جا رہی ہے۔ مہم کے دوران 1 لاکھ 58 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ہائی رسک یونین کونسلز پر خصوصی توجہ
نیشنل ای او سی کے ترجمان کے مطابق اس بار مہم کے دوران ہائی رسک یونین کونسلز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان علاقوں میں وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے ہر گھر تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مربوط اور مؤثر حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔
والدین سے اپیل
ادارے نے والدین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ہر بار اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں۔ یہ ویکسین بچوں کو زندگی بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے کا واحد اور محفوظ طریقہ ہے۔
دیگر بیماریوں سے بچاؤ بھی اہم
پولیو مہم کے ساتھ ساتھ بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات (Routine Immunization) بھی مکمل کروانے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے تاکہ وہ پولیو سمیت دیگر خطرناک بیماریوں سے بھی محفوظ رہیں۔
کمیونٹی سے تعاون کی اپیل
نیشنل ای او سی نے کمیونٹی، علما، اساتذہ اور مقامی رہنماؤں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں اور عوام میں آگاہی بڑھائیں تاکہ مہم کامیابی سے مکمل کی جا سکے۔
پولیو کا خاتمہ – قومی فریضہ
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں اب بھی پولیو وائرس کے کیسز سامنے آتے ہیں۔ حکومت اور بین الاقوامی ادارے اس خطرناک مرض کے مکمل خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔