ملتان لودھراں سیکشن پر کام کرنیوالی چینی کمپنی کو بلیک لسٹ کیا گیا، بعد ازاں اسے 172 ارب کے منصوبے کا ٹھیکہ دیا گیا،قائمہ کمیٹی اجلاس میں چیئرمین این ایچ اے کاانکشاف
آربٹریٹر بلیک لسٹ ہونے والی کمپنی کا لیگل ایڈوائزر ہونے کا بھی انکشاف، سینیٹ قائمہ کمیٹی نے بلیک لسٹ کمپنی این ایکس سی سی کو ٹھیکہ دینے کے معاملے پر ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی
اسلام آباد(احتشام یوسف)سینیٹر پرویز رشید کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں چیئرمین این ایچ اے کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ ملتان لودھراں سیکشن پر کام کرنے والی چینی کمپنی کو بلیک لسٹ کیا گیا۔ بعد ازاں اسے 172 ارب روپے مالیت کے منصوبے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے جس کے تحت کمپنی نے راجن پور تا ڈیرہ اسماعیل خان قومی شاہراہ کو دورویہ کرنا ہے۔ چیئرمین این ایچ اے نے بتایا کہ ان کے ادارے کی جانب سے کمپنی کو ڈس کوالیفائی کئے جانے کے بعد کمپنی نے قانونی چارہ جوئی کی۔ عدالت کے بعد آربٹریشن نے اس کمپنی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے سوال اٹھایا آربٹریٹر کس قانون کے تحت بلیک لسٹ کمپنی کے حق میں فیصلہ دے سکتا ہے؟۔ قائمہ کمیٹی اجلاس میں آربٹریٹر بلیک لسٹ ہونے والی کمپنی کا لیگل ایڈوائزر ہونے کا انکشاف بھی کیا گیا۔ سینیٹر کامل علی آغا نے بتایا کہ اگر آربٹریٹر اس کمپنی کا لیگل ایڈوائزر تھا تو این ایچ اے نے اسے کیسے منصف تسلیم کر لیا؟۔ کمیٹی رکن سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے بتایا کہ اس معاملے کو قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور میں بھی اٹھایا گیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقتصادی امور کمیٹی کے اجلاس کی پریس ریلیز کے جواب میں این ایچ اے نے پریس ریلیز جاری کی۔ این ایچ اے کی پریس ریلیز میں پورے سینیٹ کی تضحیک کی گئی ہے۔ سینیٹر کامل علی آغا بولے ایک ایک کمپنی کئی ناموں سے ٹھیکے لیتی رہی ہے۔ بعد ازاں سینیٹ قائمہ کمیٹی نے بلیک لسٹ کمپنی این ایکس سی سی کو ٹھیکہ دینے کے معاملے پر ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔