ایران میں معاشی بحران کے خلاف ملک گیر احتجاج جاری، 45 ہلاکتیں، انٹرنیٹ مکمل بند

ایران میں معاشی بحران کے خلاف ملک گیر احتجاج جاری، 45 ہلاکتیں، انٹرنیٹ مکمل بند

ایران میں معاشی بحران، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

 28 دسمبر سے شروع ہونے والے ان مظاہروں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سمیت 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مختلف شہروں میں کشیدگی اور بدامنی برقرار ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاجی مظاہرے ایران کے 27 صوبوں تک پھیل چکے ہیں، جہاں دکانداروں سمیت مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے شہری روزانہ کی بنیاد پر احتجاج کر رہے ہیں۔ تازہ مظاہروں کے دوران مظاہرین نے کئی اہم شہروں میں ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں، جس سے معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔ایرانی میڈیا کے مطابق بعض مقامات پر ہتھیاروں سے لیس شرپسند عناصر نے پولیس پر پتھراؤ اور براہِ راست فائرنگ بھی کی۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ احتجاج کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

ادھر ایرانی حکام نے حالات کے پیش نظر ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر معطل کر دی ہے۔ انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے انٹرنیٹ بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ بندش کی سرکاری وجہ واضح نہیں، تاہم ماضی میں بھی ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ معطل کیا جاتا رہا ہے۔یاد رہے کہ ایران میں گزشتہ 12 روز سے عوام مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف سڑکوں پر ہیں، اور ان مظاہروں کے دوران درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ اگر احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا ایران کو بھرپور اور سخت جواب دے گا۔