پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 10 کے پلیئر ڈرافٹ کے نظرثانی شدہ پک آرڈر کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 10 کے پلیئر ڈرافٹ کے نظرثانی شدہ پک آرڈر کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پی ایس ایل سیزن 10 کے پلیئر ڈرافٹ کے لیے نظرثانی شدہ پک آرڈر کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جس میں کھلاڑیوں کی کیٹیگریز میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

نئے فارمیٹ کی تفصیلات: پی سی بی نے پی ایس ایل کے ڈرافٹ فارمیٹ میں چند اہم تبدیلیاں کی ہیں جو فرنچائزز کے کھلاڑیوں کو منتخب کرنے کے عمل کو متاثر کریں گی۔ ان تبدیلیوں کے مطابق:

پلاٹینم کیٹیگری:
اس میں اب پہلے کی نسبت کم کھلاڑی منتخب کیے جائیں گے، یعنی پہلے 3 کھلاڑیوں کے انتخاب کی اجازت تھی لیکن اب 2 کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جائے گا۔
ڈائمنڈ کیٹیگری:
پہلے 3 کھلاڑیوں کا انتخاب ممکن تھا، لیکن اب اس کیٹیگری میں صرف 1 کھلاڑی کا انتخاب کیا جائے گا۔
گولڈ کیٹیگری:
اس میں بھی 3 کی بجائے 2 کھلاڑی منتخب کیے جائیں گے۔
سلور کیٹیگری:
اس میں 5 کی بجائے 3 کھلاڑی منتخب کیے جائیں گے۔
پک آرڈر: نئے نظرثانی شدہ پک آرڈر میں فرنچائزز کی ترتیب میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس کے مطابق:

پلاٹینم 1 کیٹیگری:
لاہور قلندرز کا پہلا انتخاب ہوگا، اس کے بعد کراچی کنگز، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، پشاور زلمی، ملتان سلطانز، اور اسلام آباد یونائیٹڈ کا نمبر آئے گا۔
پلاٹینم 2 کیٹیگری:
اس کیٹیگری میں سب سے پہلے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا انتخاب ہوگا، اس کے بعد کراچی کنگز کا نمبر آئے گا۔
ڈرافٹ کی تقریب کی تبدیلی: ابتداء میں پی سی بی نے پی ایس ایل سیزن 10 کے کھلاڑیوں کے ڈرافٹ کی تقریب گوادر میں منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم، کچھ لاجسٹک مسائل کی وجہ سے اس تقریب کو لاہور کے حضوری باغ میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پی ایس ایل سیزن 10 کی شیڈولنگ: پی ایس ایل کا 10واں ایڈیشن 8 اپریل 2025 سے 19 مئی 2025 تک شیڈول ہے۔ اس ایڈیشن میں پاکستان کی چھ فرنچائزز کے کھلاڑی 13 جنوری 2025 کو ڈرافٹ میں حصہ لیں گی اور اپنے ٹیموں کے لیے کھلاڑیوں کا انتخاب کریں گی۔

نتیجہ: پی ایس ایل سیزن 10 میں ہونے والی تبدیلیاں فرنچائزز کے لیے ایک نئے چیلنج کی صورت میں آئیں گی۔ نئے پک آرڈر اور کیٹیگریز کی تبدیلی سے ہر فرنچائز کو اپنے کھلاڑیوں کے انتخاب میں احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی پی سی بی کی جانب سے ڈرافٹ کی تقریب کے لیے گوادر کی جگہ لاہور کے حضوری باغ کا انتخاب بھی اہمیت رکھتا ہے۔