ریاض: پرتگالی فٹبال اسٹار کرسٹیانو رونالڈو اور سعودی کلب النصر کے درمیان حالیہ کشیدگی نے خبروں کا مرکز بن گیا ہے، جس کے نتیجے میں فٹ بالر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے مستقبل کے حوالے سے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
رونالڈو الجریح کے خلاف پرو لیگ میچ میں اسکواڈ کا حصہ نہیں تھے، اور وہ الریاض اور الاتحاد کے اہم میچز میں بھی شریک نہیں ہوئے، جس کے بعد ان کے مستقبل پر قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔میڈیا کے مطابق، رونالڈو کی جانب سے یہ انفرادی احتجاج اس وقت سامنے آیا جب انہیں محسوس ہوا کہ ان کے کلب کو سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) کی طرف سے الہلال کی طرح مالی معاونت نہیں مل رہی۔ واضح رہے کہ PIF نہ صرف النصر اور الہلال بلکہ انگلش کلب نیو کیسل یونائیٹڈ کو بھی مالی مدد فراہم کرتا ہے۔سعودی عرب کے معروف فٹبال تجزیہ کار ولید الفرج نے رونالڈو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ سعودی وفد کا حصہ نہ ہوتے تو وائٹ ہاؤس تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ الفرج نے کہا کہ رونالڈو کو اپنی حدود کا علم ہونا چاہیے، سعودی عرب ان کا ملک نہیں اور وہ سفیر ہونے اور منیجر ہونے کے فرق کو بھول رہے ہیں۔
رونالڈو، جنہوں نے 2022 میں مانچسٹر یونائیٹڈ چھوڑنے کے بعد النصر میں شمولیت اختیار کی تھی، پہلے ہی کلب کے ساتھ اپنے کنٹریکٹ میں توسیع کر چکے ہیں، جو انہیں 2027 تک سعودی کلب کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم، رپورٹس کے مطابق ان کے معاہدے میں ایک شق بھی شامل ہے جو انہیں اس سال موسم گرما میں کلب چھوڑنے کی اجازت دیتی ہے، جس کے باعث مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔یہ کشیدگی نہ صرف رونالڈو کے کیریئر بلکہ سعودی پرو لیگ میں ٹیم کے مستقبل پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، اور شائقین اور میڈیا کے لیے اس وقت یہ ایک اہم بحث کا موضوع بن گئی ہے۔