شعیب خرم ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی تعیناتی ایک اہم فیصلہ

محمد ندیم بھٹی
پنجاب پولیس کے نظامِ تفتیش میں مسلسل تبدیلیاں اور بہتری کی کوششیں ہمیشہ سے ایک بڑے چیلنج کے طور پر دیکھی جاتی رھی ھیں۔ عوام کی بنیادی خواہش یہ ھے کہ جرم ھو یا ظلم، انصاف جلد اور بلا تفریق پہنچے۔ لیکن یہ راستہ کبھی آسان نہیں رہا۔ بدلتے حالات، نئے جرائم اور پیچیدہ سماجی رویوں نے جہاں پولیس کے کردار کو مزید اہم بنا دیا ھے، وہاں ذمہ داریوں کی سنگینی بھی بڑھا دی ھے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی عہدے پر وھی شخص کامیاب ثابت ھو سکتا ھے جس کی سوچ وسیع، عمل تیز اور نیت صاف ھو۔ اسی تناظر میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب شعیب خرم جانباز کی تعیناتی کو نہ صرف محکمانہ ماحول بلکہ عوامی حلقوں میں بھی ایک خوش آئند پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رھا ھے۔ ان کا کیریئر پیشہ ورانہ دیانت، محنت اور بہترین تفتیشی ساکھ کی بنیاد پر ممتاز مقام رکھتا ھے۔ ان کا اصولی مؤقف ھے کہ کوئی بھی نظام اس وقت تک مؤثر و مضبوط نہیں ھو سکتا جب تک اس کے بنیادی ڈھانچے میں شفافیت، تربیت اور قانون کی بالا دستی شامل نہ ھو۔ وہ سمجھتے ھیں کہ تفتیش کا ہر مرحلہ ایک ذمہ داری ھے، اور اس ذمہ داری کی تکمیل ھی انصاف کی اصل بنیاد ھے۔
پنجاب میں جرائم کی نوعیت بدل رھی ھے۔ روایتی وارداتوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل کرائم، فراڈ اور سائبر جرائم تیزی سے بڑھ رھے ھیں۔ ایسے میں صرف روایتی تفتیش کافی نہیں۔ جدید نظام، ڈیجیٹل شواہد، سائنسی طریقہ کار اور فورینزک معاونت ناگزیر ھے۔ شعیب خرم جانباز کی سوچ نہایت واضح ھے کہ جدید سہولیات کے بغیر تفتیش کا عمل کبھی عالمی معیار تک نہیں پہنچ سکتا۔ ان کی ترجیحات میں یہ شامل ھے کہ تفتیشی افسران کو ایسی تربیت فراہم کی جائے جو انہیں حقائق تک پہنچنے میں مدد دے۔ ان کا ماننا ھے کہ سچ تک پہنچنے کے لیے بصری شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ اور فورینزک ڈیٹا وہ ستون ہیں جن کے بغیر انصاف ادھورا رہ جاتا ھے۔
آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور کے دور میں پولیس کے تفتیشی ڈھانچے میں ایک نیا عہد شامل ھوا ھے۔ ان کی سوچ روایتی طرزِ عمل سے ہٹ کر ایک جدید اور عالمی معیار سے ہم آہنگ نظام متعارف کرانے کی ھے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ھیں کہ صرف گرفتاری یا چالان مکمل کرنا انصاف نہیں، بلکہ انصاف کا تقاضا یہ ھے کہ ہر قدم پر شفافیت ھو، ثبوت مضبوط ھوں، اور الزام ہر حال میں سچ کے کسوٹی پر پرکھا جائے۔ ڈاکٹر عثمان انور نے ویژن دیا ھے کہ ہر تفتیشی عمل کو زمانہ جدید کی سائنسی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ سٹاف کی تربیت، فورینزک سہولیات کا استعمال، ڈیجیٹل ریکارڈ اور بین الاقوامی معیارات سے رابطہ ان کی ترجیحات میں شامل ہے‘ یہی وجہ ھے کہ پنجاب پولیس کی انویسٹی گیشن ونگ نے حالیہ عرصے میں کئی ایسے مقدمات حل کیے جو پہلے ناممکن سمجھے جاتے تھے۔ ڈاکٹر عثمان انور کا یہ یقین کہ بہترین قیادت ھی بہترین نتائج دیتی ھے، اور یہ یقین شعیب خرم جانباز کی تعیناتی کی صورت میں سامنے آیا ھے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی سوچ بھی اسی وڑن کے ساتھ ہم آہنگ ھے کہ عوام کو بروقت انصاف ملے، پولیس کا کردار شفاف ھو، اور تفتیش کا عمل دباؤ 
سے آزاد ہو۔ وزیراعلیٰ اس نظریے کے قائل ھیں کہ تفتیش کا عمل صرف جرم سے نمٹنے کے لیے نہیں بلکہ سماج کی اصلاح، عوام کی خدمت اور مظلوم کی داد رسی کے لیے بھی ناگزیر ھے۔ یہی سوچ ان کی طرف سے انویسٹی گیشن نظام میں بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات میں واضح دکھائی دیتی ھے۔ ان کا ماننا ھے کہ جب تک پولیس کو آئینی و قانونی آزادی اور پیشہ ورانہ تحفظ نہیں ملے گا، انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں رہیں گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے نہ صرف نئے وژن کی سرپرستی کی ھے بلکہ اس وڑن پر عملدرآمد کے لیے ایسے افسران کی تعیناتی یقینی بنائی ھے جو کردار و تجربے کے ساتھ ساتھ عوامی خدمت کا جذبہ رکھتے ھیں۔
شعیب خرم جانباز کی تعیناتی اسی سلسلے کی ایک کڑی ھے۔ ان کی آمد سے نہ صرف انویسٹی گیشن ونگ میں نئی جدت کی امید بڑھ گئی ھے بلکہ عوامی سطح پر بھی ان کے شفاف اور باوقار کردار کی پذیرائی ھوئی ھے۔ ان کا مقصد صرف فائلیں مکمل کرنا نہیں بلکہ انصاف فراہم کرنا ھے۔ وہ سمجھتے ھیں کہ ہر کیس کے پیچھے ایک انسان، ایک خاندان اور ایک درد ھوتا ھے، جسے دور کرنا پولیس کا فرض بھی ھے اور خدمت بھی۔ یہی احساس ان کی شخصیت کا بنیادی وصف سمجھا جاتا ھے۔
پنجاب کے بڑے شہروں میں جدید بنیادوں پر قائم تفتیشی مراکز، ڈیجیٹل سہولیات اور فورینزک سائنس کی سہولیات تک رسائی کو وسعت دینا ان کی اولین ترجیح ھے۔ ان کے نزدیک تفتیش کے ہر مرحلے میں شفافیت اور سائنسی بنیادوں پر تحقیق سماجی اعتبار سے بھی ناگزیر ھے۔ ایسے اقدامات نہ صرف نظام کو مستحکم کرتے ھیں بلکہ عوام کا پولیس پر اعتماد بھی بڑھاتے ھیں۔
عوامی خدمت کے نظریے کو فروغ دیتے ھوئے وہ اس بات کے خواہاں ھیں کہ پولیس افسران کا رویہ نرم، تہذیب یافتہ اور عوام دوستی کے اصولوں پر مبنی ھو۔ ان کا ماننا ھے کہ ایک اچھا افسر وہ ھے جو قانون کا احترام کرتے ھوئے عوام کو اہمیت دے، انہیں سنے، اور ان کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش کرے۔ یہ سوچ عوام میں پولیس کے بارے میں مثبت تاثر پیدا کرتی ھے اور سماج میں قانون کی بالادستی کے اصول کو مضبوط کرتی ھے۔
پنجاب میں تفتیش کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ضلع، ریجن اور صوبائی سطح پر مربوط حکمتِ عملی ناگزیر ھے۔ اگر کمزور بنیادوں پر کھڑا ڈھانچہ مضبوط نہیں کیا جائے گا تو کسی بھی بڑے فیصلے یا اصلاحات کا فائدہ دیرپا نہیں ھوگا۔ اس لیے ضروری ھے کہ ہر سطح پر انویسٹی گیشن کے عمل میں تسلسل، جائزہ اور احتساب کا واضح نظام موجود ھو۔ شعیب خرم جانباز اسی سمت سوچ رکھتے ھیں کہ اصلاحات کاغذ تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی میدان میں بھی نظر آئیں۔
ڈاکٹر عثمان انور اور وزیراعلیٰ پنجاب کے اس مشترکہ وژن میں شفافیت، جدیدیت اور پیشہ ورانہ دیانت بنیادی ستون ھیں۔ شعیب خرم جانباز کی تعیناتی اس وژن کی عملی شکل ھے۔ توقع کی جا رھی ھے کہ وہ اپنے تجربے، حکمتِ عملی اور باوقار قیادت کے ذریعے انویسٹی گیشن سسٹم کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ ان کی موجودگی سے نہ صرف محکمے کے اندر نظم و ضبط بہتر ھو گا بلکہ عوام کو بھی بروقت اور غیر جانبدار انصاف مل سکے گا۔ یہی کسی بھی مضبوط معاشرے کی بنیاد ھے کہ قانون سب کے لیے برابر ھو، چاہے وہ کوئی عام فرد ھو یا بااثر شخصیت۔ انصاف کی یہی فراہمی نئے پاکستان کے مستقبل کی ضمانت ھے۔