سعودی، پاک دفاعی معاہدہ برادرانہ تعلقات اور سٹریٹجک ہم آہنگی پر مبنی ہے‘معاہدے کے بعد اقتصادی تعاون تیزی سے فروغ پا رہا ہے
کالعدم ٹی ٹی پی اوربی ایل اے خطے میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں،سرحد پارمحفوظ ٹھکانوں سے حملے منظم کیے جارہے ہیں
معاشی اشاریئے درست سمت کی نشاندہی کر رہے ہیں، غزہ میں مستقل جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے: مستقل مندوب کا انٹرویو
نیویارک(آئی این پی )اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی سٹریٹجک شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ حال ہی میں طے پانے والا دفاعی تعاون کا معاہدہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات اور سٹریٹجک ہم آہنگی پر مبنی ہے،معاہدے کے بعد اقتصادی تعاون بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے، دہشتگردحملے پاکستان کے امن اورمعاشی استحکام کو نشانہ بنا رہے ہیں، کالعدم ٹی ٹی پی اوربی ایل اے خطے میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں،سرحد پارمحفوظ ٹھکانوں سے حملے منظم کیے جارہے ہیں، پاکستان دہشت گردی کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی جاری رکھے گا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے نیویارک میں عرب نیوز کو دئیے گئے انٹرویو میں کیا ۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا اہم معاشی شراکت دارہے، برادرانہ تعلقات اور مشترکہ اسٹریٹجک مفادات معاہدے کی بنیاد ہے، دفاعی معاہدے کے بعد اقتصادی تعاون بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔یہ معاہدہ نہایت اہم ہے، تاہم اسے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دہائیوں پر محیط تعاون اور مضبوط اسٹریٹجک اتحاد کے تسلسل اور استحکام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔'انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری 'برادرانہ تعلقات اور علاقائی و عالمی امور پر سٹریٹجک ہم آہنگی پر مبنی ہے، جسے اب ٹھوس شکل دے دی گئی ہے۔ عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اس دفاعی معاہدے کے فورا بعد اقتصادی تعاون کا فریم ورک بھی تشکیل دیا گیا، جو جامع شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا ایک بڑا اقتصادی شراکت دار ہے، اور سرمایہ کاری، تجارت اور ترقیاتی تعاون میں اضافے کی جانب اشارہ کیا۔