ضلع کچہری لاہور میں ڈکی بھائی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، الیکٹرانک ڈیوائسز اور اے ٹی ایم کارڈز کی سپرداری کے کیس کی سماعت ہوئی۔
عدالت میں اس کیس کے مختلف پہلوؤں پر سماعت کی گئی، جس میں ملزم کی گرفتاری، تفتیشی عمل اور مالی و سوشل میڈیا اثاثوں کی حوالگی شامل ہیں۔عدالت نے پراسیکیوشن کی درخواست پر این سی سی آئی اے کو مزید 3 دن کی مہلت دی تاکہ وہ مطلوبہ معلومات اور شواہد جمع کر سکے۔ اس کے علاوہ، ڈکی بھائی کی سپرداری کی درخواست پر سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کیس کا پہلا تفتیشی افسر جیل میں بند ہے، اور اس سے تمام معلومات حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ کیس کی تفتیش مکمل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ مزید معلومات کے لیے تفتیشی افسر سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔وکیل ڈکی بھائی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کی جانب سے یہ درخواست سپرداری کے لیے دائر کی گئی ہے، کیونکہ ان کے پاس الیکٹرانک آلات اور موبائل فونز موجود ہیں، جن کی حوالگی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس 4 کریڈٹ کارڈز اور رقم ہے، جسے بھی عدالت کے حوالے کیا جائے۔عدالت میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کیس کی سماعت کی، اور ملزمان کے خلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ کیس کی تفتیش جاری ہے اور تمام متعلقہ شواہد جمع کرنے کے بعد ہی حتمی کارروائی کی جائے گی۔یہ کیس حساس نوعیت کا ہے کیونکہ اس میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس، مالیاتی اثاثے اور الیکٹرانک آلات کی حوالگی شامل ہے، اور عدالت تمام فریقین کے موقف کو سن کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔