امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت اور کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات میں اہم پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں ان ممالک کی زرعی درآمدات پر نئے محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔
انہوں نے اس حوالے سے عندیہ دیا ہے کہ بھارت سے آنے والے چاول اور کینیڈا سے درآمد ہونے والی کھاد پر ٹیکس لگایا جا سکتا ہے، تاکہ امریکی مقامی کسانوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔وائٹ ہاؤس میں ایک اجلاس کے دوران، جس میں امریکی کسانوں کے لیے کئی ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان بھی کیا گیا، صدر ٹرمپ نے بھارت سمیت دیگر ایشیائی ممالک سے آنے والی زرعی اشیاء پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ درآمدات مقامی کسانوں کے لیے چیلنج بن رہی ہیں اور اس لیے امریکی حکومت محصولات کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے مقامی پیداوار کا تحفظ کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ امریکی کسانوں کے لیے 12 ارب ڈالر کی معاشی امداد فراہم کرے گی، جو ان محصولات سے حاصل ہونے والی آمدنی سے دی جائے گی جو امریکا اپنے تجارتی شراکت داروں سے وصول کر رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا "ٹریلیئنز آف ڈالرز" جمع کر رہا ہے اور کہا کہ دوسرے ممالک نے برسوں تک امریکا سے فائدہ اٹھایا ہے۔ زرعی درآمدات کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ یہ امداد زرعی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ضروری ہے، خاص طور پر اس مہنگائی اور کم قیمتوں کے پس منظر میں، جسے وہ سابقہ حکومتوں کی میراث قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان قومی اثاثہ ہیں اور امریکی زرعی شعبہ کو مضبوط بنانے کے لیے محصولات کا استعمال اہم حکمت عملی ہے۔
مذاکرات کے دوران، بھارت خاص طور پر زیرِ بحث آیا، جہاں ایک لوزیانا کے کاشتکار نے بھارتی چاول کی درآمدات کو امریکی بازار میں جنوبی ریاستوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ جب صدر کو بتایا گیا کہ امریکی ریٹیل مارکیٹ میں بھارتی چاول کی دو بڑی برانڈز بھارتی کمپنیوں کی ملکیت ہیں، تو انہوں نے کہا کہ ہم اس کا بندوبست کر لیں گے۔ انہوں نے کہا: "یہ بہت آسان ہے، محصولات دو منٹ میں مسئلہ حل کر دیتے ہیں، انہیں ڈمپنگ نہیں کرنا چاہیے، میں نے اس بارے میں پہلے بھی سنا ہے۔ یہ قابلِ قبول نہیں۔"ٹرمپ نے کینیڈا سے آنے والی کھاد پر بھی سخت محصولات عائد کرنے کا عندیہ دیا تاکہ مقامی پیداوار کو فروغ مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ "کھاد کی بڑی مقدار کینیڈا سے آتی ہے، اور اگر ضرورت پڑی تو ہم اس پر سخت محصولات لگائیں گے تاکہ مقامی صنعت کو تقویت ملے۔ ہم سب کچھ یہاں پیدا کر سکتے ہیں۔"گزشتہ دہائی میں بھارت اور امریکا کے درمیان زرعی تجارت میں اضافہ ہوا ہے، جہاں بھارت امریکا کو باسمتی اور دیگر چاول، مصالحہ جات اور بحری مصنوعات برآمد کرتا ہے، جبکہ امریکا سے بادام، کپاس اور دالیں درآمد کی جاتی ہیں۔ تاہم، سبسڈی، منڈی تک رسائی اور خاص طور پر چاول اور چینی کے حوالے سے عالمی تجارتی تنظیم میں شکایات موجود ہیں، جن کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں تناؤ پیدا ہوتا رہا ہے۔