برف پگھلنے لگی تحریک انصاف نے حکومتی پیشکش قبول کرلی
پی ٹی آئی کے وکلا، سینیٹرز اور اراکینِ قومی اسمبلی کو شامل کمیٹی شامل ہونے کی ہدایت جاری کردی پارلیمانی پارٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ کمیٹی کی سربراہی رانا ثنا اللہ ہی کریں گے، مذاکرات سے انکار نہیں ، عمران کبھی مائنس نہیں ہو سکتے ، بیرسٹر گوہر کی گفتگو
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان برف پگھلنے لگی پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کی جانب سے دی جانے والی پیشکش قبول کر لی۔ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کی جانب سے دی گئی پیشکش کو پی ٹی آئی نے قبول کر لیا جس میں بانی چیئرمین عمران خان کو جیل میں دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ شامل ہے۔مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں اکثریتی اراکین نے اس فیصلے کی حمایت کی، ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں پی ٹی آئی کے وکلا، سینیٹرز اور اراکینِ قومی اسمبلی کو شامل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ رانا ثناء اللہ نے گزشتہ روز باضابطہ طور پر کمیٹی تشکیل دینے کی پیشکش کی تھی جسے اب پی ٹی آئی کی قیادت نے قبول کرلیا ہے۔پی ٹی آئی نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ کمیٹی کی سربراہی رانا ثناء اللہ ہی کریں گے جبکہ پی ٹی آئی کے نمائندے اور وکلاء کمیٹی کے ہمراہ جیل جا کر سہولیات کا براہِ راست جائزہ لیں گے۔پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ انہیں واضح طور پر دکھایا جائے کہ ان کے بانی چیئرمین کو جیل میں کون کون سی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی کے نمائندے اور وکلا کمیٹی کے ہمراہ جیل جا کر سہولیات کا براہِ راست جائزہ لیں گے۔پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کا موٓقف ہے کہ انہیں واضح طور پر دکھایا جائے کہ ان کے بانی چیئرمین کو جیل میں کون کون سی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس محمود اچکزئی کی زیر صدارت ہوا جس میں انٹرا پارٹی الیکشن پر الیکشن کمیشن کے خط پر مشاورت کی گئی اور قومی اسمبلی اجلاس سے متعلق حکمت عملی اور موجودہ سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات سے انکار نہیں کیا، جمہوریت کا فروغ چاہتے ہیں،مضبوط فوج ہی مضبوط پاکستان کی ضامن ہے، چاہتے ہیں معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوں۔اْنہوں نے کہا کہ مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا، حالات بہتر کرنا چاہتے ہیں،جو کچھ ہوا غلط ہوا، کچھ عناصر آگ لگوانا چاہتے ہیں، بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کبھی مائنس نہیں ہو سکتے۔ گوہر نے کہا کہ جمہوریت کے بارے میں سوچیں اور اچھا سوچیں، بانی ایک بڑی جماعت کے لیڈر ہیں۔گورنر راج تو ایک اشارہ ہے، یہ چاہتے ہیں صوبے کے حالات خراب ہوں، کے پی کے میں گورنر راج نہیں لگے گا، انہوں نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سرٹیفکیٹ جاری نہیں ہوا تو پی ٹی آئی پر کیسے پابندی لگائی گئی۔تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ پی ٹی آئی میں مائنس ون کا فارمولا لاگو ہی نہیں ہو سکتا، جب پی ٹی آئی کسی اور کے ساتھ چل ہی نہیں سکتی تو مائنس ون کی بات بلا جواز ہے۔