چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر اشرفی نے مدارس کی رجسٹریشن اور اصلاحات سے متعلق اجلاس میں کہا کہ مدارس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہم خود مدرسہ چلانے والوں کی اولاد ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2019 میں مدارس کے نئے بورڈز کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا اور آج یہ بورڈز بھرپور طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ علامہ طاہر اشرفی نے بیرونی ایجنڈے کے بارے میں بلاوجہ کے خوف کی نفی کی اور کہا کہ ہم اپنے تعلیمی نظام پر مکمل اختیار رکھتے ہیں۔ڈائریکٹر جنرل مذہبی تعلیم میجر جنرل (ر) غلام قمر نے کہا کہ مدارس پاکستان کے تعلیمی نظام کا اہم حصہ ہیں، جو غریب بچوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مدارس کو قومی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ تعلیم کا معیار بہتر ہو۔
علامہ راغب نعیمی نے مدارس کے نظام کے تحفظ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب مدارس کو بیرونی ایجنڈے سے خطرہ نہیں، اور ان کو وزارت تعلیم کے ساتھ جوڑا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مدارس کے بورڈز میں اضافہ اور طلبہ کو بی ایس ڈگری کے مساوی سرٹیفیکیٹس دینے کی ضرورت ہے۔اجلاس میں وزیرِ تعلیم خالد مقبول صدیقی اور چوہدری سالک حسین سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔