نائب صدر پیپلز پارٹی اور سینیٹر شیری رحمان نے کشمیریوں کی تاریخی اور مزاحمتی کتابوں پر بھارت کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ بھارت کتابوں کو چھین کر کشمیری شناخت کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ نہ صرف کشمیریوں کی فکری آزادی پر حملہ ہے بلکہ بھارتی غیر جمہوری عزائم کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ کتابوں سے خوف کھانے والا ملک اپنی ناکامی کا اعتراف کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ کو دبانا یا حقائق کو مٹانا ممکن نہیں، بلکہ ایسا کرنے سے وہ حقائق اور زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔انہوں نے بھارت کے اظہارِ رائے پر پابندیاں عائد کرنے کے اقدام کو فاشسٹ رویہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل بھارت کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ بھارت کے یہ اقدامات کشمیریوں کی فکری آزادی کو دبانے اور حقائق کو چھپانے کی ناکام کوشش ہیں، جس سے عالمی برادری کی نگاہ میں بھارت کی تصویر مزید خراب ہو رہی ہے۔نائب صدر پیپلز پارٹی نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور بھارت کی ان غیر انسانی پابندیوں کے خلاف آواز بلند کریں۔