شیری رحمان کا مؤقف: پاکستانی وفد نے دنیا کو حقائق سے آگاہ کیا، بھارتی میڈیا نے جنگی جنون کو ہوا دی

شیری رحمان کا مؤقف: پاکستانی وفد نے دنیا کو حقائق سے آگاہ کیا، بھارتی میڈیا نے جنگی جنون کو ہوا دی

عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف اجاگر کرنے کے لیے مختلف ممالک کے دورے پر موجود اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کی رکن اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کا پیغام امن کا ہے، مگر یہ کسی کمزوری کی علامت نہیں۔

 انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے جنگی جنون کو ہوا دی جبکہ پاکستانی وفد نے بین الاقوامی برادری کے سامنے حقائق رکھے۔

اسکائی نیوز کو انٹرویو

شیری رحمان نے اسکائی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ پاکستان واشنگٹن، نیویارک، لندن اور اب برسلز میں عالمی اداروں اور رائے عامہ کو حقائق سے آگاہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان تصادم نہیں، بلکہ مذاکرات کا خواہاں ہے۔ تاہم، بھارت کی جانب سے کیے گئے حملے کی کوئی ضرورت یا جواز نہیں تھا۔ اس حملے کو مکمل طور پر بلا اشتعال قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صبر اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

پہلگام حملہ اور بھارتی الزامات

شیری رحمان نے بھارتی الزامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پہلگام حملے کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا، حالانکہ اس کا کوئی ثبوت آج تک پیش نہیں کیا گیا۔ پاکستان نے اس واقعے کی مذمت کی اور افسوس کا اظہار بھی کیا، مگر اس کے باوجود بھارت نے یکطرفہ اور بے بنیاد الزامات عائد کیے۔

بھارتی میڈیا کا کردار

سینیٹر شیری رحمان نے بھارتی میڈیا کے کردار کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مین اسٹریم میڈیا نے جان بوجھ کر جنگی جنون کو ہوا دی اور قوم پرستی کے جذبات بھڑکائے۔ ان کے مطابق بھارتی میڈیا نے نہ صرف حقائق کو مسخ کیا بلکہ پاکستان کی بندرگاہوں پر قبضے جیسے غیر حقیقی دعوے بھی کیے، یہاں تک کہ پاکستان کا نقشہ مٹانے کی باتیں بھی نشر کی گئیں۔

پاکستان کا مؤقف: امن اور خودداری

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف امن، خودداری اور حقائق پر مبنی ہے اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ جنوبی ایشیا میں قیامِ امن کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس خطے کو جنگ نہیں، بلکہ مکالمے، تعاون اور ترقی کی ضرورت ہے۔