وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیلی کابینہ کی جانب سے غزہ پر ناجائز کنٹرول کے منصوبے کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینی عوام کے خلاف جنگ میں خطرناک اضافہ قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ غزہ میں فوجی کارروائیوں کی توسیع پہلے سے جاری انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دے گی اور خطے میں امن کے کسی بھی امکان کو ختم کر دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جاری المیے کی بنیادی وجوہات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔وزیراعظم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔دریں اثنا، غزہ کی سنگین صورتِ حال کے پیش نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کر لیا گیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق امریکا کو چھوڑ کر سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 رکن ممالک نے اجلاس بلانے کی حمایت کی، جبکہ امریکا نے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔