ویب ڈیسک: اسرائیلی وزیراعظم نے پورے غزہ پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس حوالے سے خبر ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کی جنگی کابینہ نے جنگی مقاصد کے حصول کے لیے فلسطینی علاقے غزہ میں مکمل فوجی کارروائی کی منظوری دی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اب کوئی پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں ہے اور پورے غزہ میں آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اگر کارروائی نہ کی گئی تو یرغمالی افراد بھوک سے مر سکتے ہیں، اس لیے اہم علاقوں میں بھی فوجی کارروائیاں کی جائیں گی جہاں یہ شک ہے کہ یرغمالی رکھے گئے ہیں۔دوسری طرف، فلسطینی وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جنگی کابینہ کا یہ فیصلہ امن کے لیے خطرہ ہے اور قبضہ کرنے کا یہ منصوبہ سنجیدہ یا آزمائشی ہو سکتا ہے، لیکن دنیا کو اسے روکنا چاہیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس معاملے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ پر قبضہ کا معاملہ اسرائیل پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت فلسطینیوں کے محصور علاقوں میں زیادہ غذا پہنچانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور غزہ کے باقی معاملے پر وہ کچھ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ یہ زیادہ تر اسرائیل کے فیصلے پر منحصر ہے۔یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات کی طرف بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے امن قائم رکھنے اور جنگ بندی کرنے کی اپیل کی ہے۔