فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مشروبات کی صنعت میں مبینہ ٹیکس چوری کی اطلاعات پر ہنگامی کارروائی شروع کر دی ہے۔
اس سلسلے میں لاہور، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں قائم متعدد مشروبات کی مینوفیکچرنگ یونٹس پر مانیٹرنگ کا دائرہ سخت کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق چیف کمشنر لارج ٹیکس پیئرز آفس لاہور کی خصوصی ہدایات پر سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 40بی کے تحت سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے تحت پیداوار، فروخت اور اسٹاک کی ہر سطح پر مکمل نگرانی کے لیے نامزد افسران یونٹس میں تعینات کر دیے گئے ہیں، جو 24 گھنٹے مانیٹرنگ کے عمل کو یقینی بنائیں گے۔
مانیٹرنگ فہرست میں شامل متعدد افسران کو براہِ راست گوداموں اور پیداواری مقامات کی جانچ پڑتال کا اختیار دیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا ریکارڈ میں گڑبڑ کی فوری نشاندہی کی جا سکے۔ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد ٹیکس قوانین کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانا، محصولات میں اضافہ اور ٹیکس چوری کے امکانات کو کم سے کم کرنا ہے۔ ان کے مطابق مانیٹرنگ سے نہ صرف محصولات کی وصولی بہتر ہوگی بلکہ مارکیٹ میں شفافیت اور مسابقتی ماحول کو بھی فروغ ملے گا۔