ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ، وفاقی دارالحکومت میں تیاریاں شروع ،فائیو سٹار ہوٹلز خالی کروا لیے گئے

مستقل جنگ بندی اسلام آباد میں کل  بڑی بیٹھک 
امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوں گے،  ممکنہ حتمی جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے پر بات چیت کی جائے گی،سڑکیںکنٹرینر لگا کر بند،وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران اور امریکہ  کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے وفاقی دارالحکومت میں تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ غیرملکی مہمانوں کو ٹھہرانے کیلئے نجی فائیوسٹار ہوٹل کو منتخب کیا گیا ہے جبکہ دیگر غیرملکیوں کو بھی نجی ہوٹلز میں ٹھہرایا جائے گا۔ نجی ہوٹلز نے پہلے سے مقیم مہمانوں کو ہوٹل چھوڑنے کی ہدایت کردی جبکہ انتظامیہ نے سیکیورٹی کے پیش نظر نجی ہوٹل کیطرف جانے والی سڑکوں کو کنٹرینر لگا کر بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی مہمانوں کو ایئرپاورٹ سے لانے لیجانے کیلئے ٹریفک روٹس بھی متعین کردیئے گئے ہیں جبکہ انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ ایران اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوں گے، جہاں ممکنہ حتمی جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے پر بات چیت کی جائے گی۔ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کو پاکستان کے ذریعے دس نکاتی تجاویز ارسال کر دی گئی ہیں، جن کی بنیاد پر مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے۔ ان مذاکرات میں جنگ بندی کو مستقل شکل دینے پر غور کیا جائے گا۔ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایرانی حکام سے بات چیت کے لیے تیاریاں کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف مذاکرات میں امریکی وفد کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس اس وقت ہنگری کے دورے پر ہیں، تاہم اسلام آباد میں ہونے والی اہم ملاقات کے پیش نظر ان کے دورے کو مختصر کیا جا سکتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ان مذاکرات میں پاکستانی نمائندے بھی ثالثی کردار ادا کریں گے۔ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل نے موجودہ جنگ بندی کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکراتی ایجنڈے میں اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ایران کی جانب سے اس پیش رفت کو بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ کہا جا رہا ہے کہ اس نے امریکی دباؤ کے باوجود اپنے دس نکاتی مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا۔دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکا کو ایران کی جانب سے دس نکاتی تجویز موصول ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تجاویز بامعنی مذاکرات کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں اور دونوں ممالک ایک طویل المدتی امن معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں